Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سبسیڈی قرض اسکیم ، اقلیتوں کو فائدے کے بجائے اسکام کا شکار

سبسیڈی قرض اسکیم ، اقلیتوں کو فائدے کے بجائے اسکام کا شکار

کارپوریشن کی ملی بھگت ، درخواست گذاروں کو نقصان پہونچانے کی سازش ، دلالوں کی چاندی
حیدرآباد۔ 22 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے 80 فیصد تک سبسیڈی فراہم کرنے کیلئے منفرد قرض اسکیم کا آغاز کیا لیکن یہ اسکیم غریب اقلیتوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اسکام کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اسکیم کا مقصد غریبوں کو چھوٹے کاروبار سے منسلک کرنا ہے لیکن درمیانی افراد اور کارپوریشن کے ملازمین نے آپسی ملی بھگت سے حقیقی مستحقین کو محروم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ 80 فیصد سبسیڈی کے اعلان کے بعد ہزاروں کی تعداد میں اقلیتی افراد نے اسکیم کیلئے درخواست داخل کی اور یہ سلسلہ جاریہ ماہ کے اختتام تک جاری رہے گا۔ درخواست گزاروںکی کثیر تعداد نے دفتر سیاست اور اس کے ہیلپ لائین سنٹر پہنچ کر شکایت کی کہ درمیانی افراد اور کارپو ریشن کے ملازمین کی ملی بھگت سے وہ پریشان ہیں اور انہیں قرض کی منظوری کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ روپئے تک قرض کیلئے کارپوریشن 80 فیصد سبسیڈی فراہم کرے گا جبکہ 2 لاکھ تک 60 فیصد سبسیڈی دی جائے گی۔ اسکیم کیلئے دو شرائط و طریقہ کار کو مدون کیا گیا ہے، وہ عوام کیلئے تکلیف دہ اور درمیانی افراد کیلئے فائدہ مند ہے۔ درخواستوں کے ادخال کے ساتھ کسی کاروبار کے آغاز سے متعلق کوٹیشن داخل کرنا لازمی کیا گیا ہے۔ یہی شرط ایسی ہے جو اسکیم کو مبینہ طور پر اسکام میں بدل سکتی ہے۔ کوٹیشن کے حصول کیلئے امیدوار کو متعلقہ کاروبار کے ہول سیل ڈیلر سے رجوع ہونا ہے۔ ہر بینک میں درمیانی افراد موجود ہیں جو تمام امور کی تکمیل اور سبسیڈی کی منظوری کیلئے 20 ہزار روپئے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان بروکرس کی کارپوریشن کے ملازمین سے ملی بھگت ہے، جس کے نتیجہ میں درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہول سیل ڈیلر سے کوٹیشن کے حصول کے سلسلہ میں ڈیلر کی جانب سے شرط رکھی جارہی ہے کہ قرض کی منظوری کے بعد اسے 10 فیصد رقم ادا کی جائے۔ تمام کارروائی کی تکمیل کے بعد سبسیڈی سے متعلق چیک ہول سیل ڈیلر کے نام پر جاری کیا جاتا ہے اور ڈیلر اپنی 10 فیصد رقم منہا کرتے ہوئے باقی رقم حوالے کرتے ہیں۔ 80 ہزار میں ہول سیل ڈیلر کو 20 ہزار اور بروکر کو 20 ہزار کی ادائیگی کے بعد امیدوار کے پاس صرف 40 ہزار بچ جائیں گے اور بینک سے 20 ہزار روپئے قرض حاصل کر کے وہ 60 ہزار میں کونسا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔ اس طرح کارپوریشن کے قواعد و شرائط نے بروکرس کی مدد کی ہے اور اس کا فائدہ کارپوریشن کے ملازمین بھی اٹھا رہے ہیں۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ درمیانی افراد کے بغیر ان کی درخواستوں کی منظوری کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ امیدوار درمیانی افراد سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ سال 50 فیصد سبسیڈی سے متعلق اسکیم میں اسی طرح کی شکایات ملی تھیں اور کئی امیدواروں نے سیاست پہنچ کر تفصیلات بیان کیں۔ گزشتہ سال کی اسکیم پر آج تک عمل نہیں کیا گیا اور کئی منظورہ درخواستوں کو سبسیڈی کی رقم جاری نہیں ہوئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گزشتہ سال کی اسکیم کے بارے میں اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں نے تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سبسیڈی اسکیم کی درخواستوں کے ادخال سے لیکر استفادہ کنندگان کے انتخاب تک درمیانی افراد کا اہم رول ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مذکورہ اسکیم میں شفافیت پیدا کرنے کیلئے اینٹی کرپشن بیورو کی نگرانکار ٹیم متعین کریں۔ تاکہ اسکیم کا فائدہ حقیقی غریبوں تک پہنچ سکے۔ حکومت تو اسکیمات پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے لیکن موثر نگرانی کی کمی کے باعث سرکاری رقومات کا بیجا استعمال ہورہا ہے۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کے امور کی نگرانی کیلئے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کی قیادت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے ، لہذا اس کمیٹی کو اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری دی جانی چاہئے۔ دوسری طرف اس ا سکیم کیلئے بجٹ اور نشانہ میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کے تحت 8153 افراد کو سبسیڈی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تاحال موصولہ درخواستوں کی تعداد 30,000 سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT