سبقت کے باوجود انگلینڈ کو 3خامیوں پر قابو پانا ہوگا : بائیکاٹ

لندن ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) تمام انگلش ماہرین کی طرح جفری بائیکاٹ نے بھی ہندوستان کے خلاف رواں ٹسٹ سیریز میں میزبان انگلینڈ کی کافی ستائش کی ہے جس نے سیریز میں لارڈس ٹسٹ میں ناکامی کے بعد متواتر دو مقابلوں میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے ناقابل تسخیر موقف حاصل کرلیا ہے لیکن اس کے باوجود سابق انگلش کھلاڑی بائیکاٹ کا کہنا ہیکہ 15 اگست کو اوول میں شروع ہونے والے پانچویں اور آخری ٹسٹ سے قبل میزبان ٹیم کو تین کلیدی شعبوں میں موجود خامیوں پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ بائیکاٹ نے لارڈس ٹسٹ میں شکست کے بعد اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے چوتھے ٹسٹ میں ایک اننگز اور 54 رنز کی کامیابی کے ذریعہ سیریز میں 2-1 کی سبقت کی کافی ستائش کی ہے لیکن 3 مقامات پر ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے انگلش ٹیم کو انتباہ دیا ہیکہ وہ جن 3 مقامات میں کمزوریاں ہیں اسے سیریز کے آخری مقابلہ سے قبل دور کرے جس میں اوپنر سیم رابسن کا ناقص فام، فاسٹ بولنگ شعبہ میں بیک اپ اور اچھا لیتی گیندوں پر انگلش بیٹسمینوں کے ناقص مظاہرے شامل ہیں۔ بائیکاٹ کے بموجب الیسٹرکک کی زیرقیادت انگلش ٹیم کو ان خامیوں پر فوری قابو پانا ہوگا کیونکہ لارڈس کی شکست کے بعد انگلش ٹیم نے سیریز میں غیرمعمولی واپسی کی ہے لیکن فاسٹ بولروں کی جوڑی جیمس اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ جوکہ میزبان ٹیم کیلئے میچ جتوانے والے بولرس ثابت ہوئے ہیں لیکن ان کی کسی وجہ سے زخمی ہوکر ٹیم سے باہر ہونے کا ٹیم کو شدید ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے تعاون کیلئے موجود فاسٹ بولروں کی جوڑی کریس ووکس اور کرس جواڈن میں وہ صلاحیتیں موجود نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں بائیکاٹ نے اوپنر رابسن کے ٹیم میں مقام پر سوال اٹھایا ہے۔ روزنامہ دی ٹیلی ٹیلیگراف کیلئے تحریر کردہ اپنے مضمون میں بائیکاٹ نے کہا ہیکہ جیسا کہ اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ ٹیم کیلئے میچ جتانے والے بولر ثابت ہوچکے ہیں لیکن زخمی ہوکر یا کسی اور وجہ سے یہ بولر ٹیم سے باہر ہوگئے تو میزبان ٹیم کا بولنگ شعبہ انتہائی کمزور ہوجائے گا۔ مذکورہ بولروں کے بعد ان کا تعاون دینے کیلئے ٹیم میں موجود ووکس اور جارڈن میں صلاحیت، جارحانہ تیور اور گیندوں پر قابو نہیں ہے جس کی وجہ سے حریف بیٹسمینوں پر بننے والا دباؤ ختم ہورہا ہے۔ اوپنر رابسن کی صلاحیتوں پر بھی انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر کو یہ معلوم نہیں ہورہا ہیکہ آف اسٹمپ کے باہر کونسی گیند کو کھیلنا ہے اور کونسی گیند کو چھوڑ دینا ہے۔ بائیکاٹ نے اپنا آخری نقطہ نظر سے کہا ہیکہ گذشتہ مقابلہ میں ایک اچھا لیتی گیند براڈ کو زخمی کرچکی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہیکہ انگلش بیٹسمین اچھال لیتی گیندوں کے خلاف نہ صرف جدوجہد بلکہ ناکام ہورہے ہیں۔ کئی بیٹسمینوں کو اچھال لیتی گیندوں کے خلاف بہتر مظاہرہ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے لارڈس ٹسٹ میں بھی بیٹسمینوں نے اپنی وکٹیں گنواتے ہوئے مہمان ٹیم کو تاریخ ساز کامیابی کا موقع فراہم کیا تھا۔ آخری ٹسٹ کے آغاز سے قبل انگلش بیٹسمینوں کو اچھال لیتی گیندوں پر بہتر مظاہرہ کی مشق ناگزیر ہے۔ یاد رہے ہندوستانی ٹیم نے 28 برس بعد لارڈس ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 5 مقابلوں کی سیریز میں 1-0 کی سبقت حاصل کرلی تھی لیکن ساوتھمپٹن اور اولڈ ٹریفورڈ میں ناکامی کے بعد اسے اب سیریز میں شکست کا خطرہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT