Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / سبکدوش عہدیدار کی سرکاری دفتر میں غیر قانونی کام کی انجام دہی

سبکدوش عہدیدار کی سرکاری دفتر میں غیر قانونی کام کی انجام دہی

اعلیٰ عہدیدار پر قانونی کشاکش سے چھٹکارا ناممکن ، چیف منسٹر کے انکار کے باوجود او ایس ڈی کا تقرر
حیدرآباد۔/21اپریل، ( سیاست نیوز) کیا کوئی سرکاری ملازم یا عہدیدار وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد دفتر پہنچ کر فائیلوں کی یکسوئی کرسکتا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا جواب ہر شخص کے پاس نفی میں ہوگا۔ لیکن محکمہ اقلیتی بہبود میں یہ ممکن ہے اور گزشتہ دو ماہ سے یہ غیر قانونی سلسلہ جاری ہے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آخر یہ غیر قانونی کام سرکاری ادارہ میں کس طرح قانونی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ سرکاری قواعد کے مطابق کسی ریٹائرڈ عہدیدار کو دوبارہ اسی عہدہ پر بازمامور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی وہ فائیلوں کا مطالعہ یا اس پر نوٹ تحریر کرسکتا ہے۔ اس طرح کا اقدام نہ صرف سرویس رولس کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ غیر قانونی عمل ہے۔ اس کے ذمہ دار جو بھی اعلیٰ عہدیدار ہوں وہ  قانونی کشاکش سے بچ نہیں سکتے بشرطیکہ کوئی اس معاملہ کو  حکومت یا پھر عدالت سے رجوع کرے۔ اقلیتی بہبود میں یہ اس لئے بھی ممکن ہوسکا کیونکہ اس محکمہ میں عام طور پر قواعد کی خلاف ورزی اور اقرباء پروری اپنے قریبی و پسندیدہ افراد کی سرپرستی عام بات ہے۔ اس محکمہ میں دیانتدار اور ایماندار عہدیداروں کو ہٹانے کیلئے زبردست سازشیں کی جارہی ہیں اور اسی تسلسل کے تحت ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر کو پہلا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے اس طرح کے ہر غیرقانونی اقدام کی مخالفت کی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے بھی اقلیتی بہبود کو صرفخاص کے دفتر کی طرح چھوڑ دیا ہے اور اس پر کوئی نگرانی نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل جو کئی ایک اہم عہدوں کی ذمہ داری خود سنبھالے ہوئے ہیں اس طرح انہیں اپنے پسندیدہ افراد کو نوازنے کا جیسے لائسنس حاصل ہوچکا ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے جنرل منیجر کی حیثیت سے فبروری میں ریٹائرڈ ہونے والے شخص کو باز مامور کرنے سے متعلق بورڈ آف ڈائرکٹرس کی سفارش کو چیف منسٹر نے مسترد کردیا لیکن محکمہ کے پاس چیف منسٹر کے فیصلہ کی شاید کوئی اہمیت نہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے فائیل مسترد کئے جانے کے باوجود ریٹائرڈ شخص کو غیر قانونی طریقہ سے نہ صرف دفتر میں چیمبر اور نیم پلیٹ کے ساتھ برقرار رکھا گیا بلکہ کارپوریشن کی تمام اہم فائیلیں اسی سے ہوکر منیجنگ ڈائرکٹر سے رجوع ہورہی ہیں۔ یہ طریقہ کار انتہائی قابل اعتراض اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کس طرح ایک ریٹائرڈ شخص فائیلوں پر دستخط کرسکتا ہے جبکہ چیف منسٹر نے اس کی فائیل مسترد کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب اعلیٰ عہدیدار کسی ناقابل بیان مجبوریوں کے تحت بے بس ہوں تو پھر اس طرح کی خلاف ورزی کوئی عجب نہیں۔ محکمہ کا ہر ملازم مذکورہ ریٹائرڈ شخص کی اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کی وجوہات کے بارے میں ایسی کہانیاں سنارہا ہے کہ جو نہ صرف ناقابل سماعت بلکہ ناقابل تحریر ہیں۔ اعلیٰ عہدیدار نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ چیف منسٹر نے فائیل کو مسترد کردیا اور مذکورہ شخص کو اسکولوں کی سوسائٹی میں او ایس ڈی مقرر کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکولوں کی سوسائٹی کا فینانس کارپوریشن کی فائیلوں سے کیا تعلق؟ ۔ دوسری بات یہ کہ سوسائٹی کے او ایس ڈی کے بجائے جنرل منیجر کی نیم پلیٹ اور دیگر مراعات کی برقراری خود ان باتوں کی تصدیق کرتی ہے جو محکمہ کے ملازمین کہہ رہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے نہ صرف بورڈ آف ڈائرکٹرس کے اجلاس میں مذکورہ عہدیدار کی بازماموری کی مخالفت کی بلکہ حکومت کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس شخص کی جانب سے 5سال زائد خدمات انجام دینے اور لاکھوں روپئے بطور تنخواہ حاصل کرنے کی تفصیلات روانہ کی تھیں۔ محکمہ کے دیگر ملازمین کا یہ سوال ہے کہ کیا انہیں بھی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد دوبارہ اسی عہدہ پر بازمامور کیا جائے گا؟۔ ظاہر ہے کہ یہ اس لئے ممکن نہیں کہ جو کام اور جن ضروریات کی تکمیل مذکورہ شخص کرسکتا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ الغرض محکمہ اقلیتی بہبود پر چیف منسٹر کو خصوصی توجہ دینی ہوگی ورنہ اقلیتی اسکیمات میں بے قاعدگیوں کی طرح ہر سطح پر قانون کی خلاف ورزی عام ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT