Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / سبھاش چندر بوس اور واجپائی کو بھارت رتن ایوارڈ کا امکان

سبھاش چندر بوس اور واجپائی کو بھارت رتن ایوارڈ کا امکان

نئی دہلی ۔ /10 اگست ( سیاست ڈاٹ کام) ملک کے سب سے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کو عطا کئے جانے کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ۔ ان دونوں قائدین کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے یہ قیاس ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سال بھارت رتن کا اعزاز دینے کیلئے جو فہرست تیار کی گئ

نئی دہلی ۔ /10 اگست ( سیاست ڈاٹ کام) ملک کے سب سے اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کو عطا کئے جانے کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ۔ ان دونوں قائدین کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے یہ قیاس ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سال بھارت رتن کا اعزاز دینے کیلئے جو فہرست تیار کی گئی ان پانچ ناموں میں مذکورہ قائدین کے نام بھی شامل ہیں ۔ ماضی میں بی جے پی قائدین نے واجپائی کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی جو اس وقت بی جے پی زیرقیادت حکومت کی سربراہی کررہے ہیں اپنی یوم آزادی تقریب کی تقریر میں ان ناموں کا اعلان کریں گے ۔

وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے چار دن قبل کہا تھا کہ حکومت نے بھارت رتن کے لئے پانچ ممتاز شخصیتوں کے ناموں کی فہرست تیار کی ہے لیکن اس فہرست کی تیاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام پانچوں شخصیتوں کو بھارت رتن سے نوازا جائے گا ۔ اس دوران کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ بی ایس پی سربراہ کانشی رام ‘ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں اور مجاہد آزادی بھگت سنگھ کو بھی یہ ایوارڈ دیا جانا چاہئے ۔ کانگریس لیڈر راشد علوی نے کہا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کو یہ ایوارڈ دیا جانا چاہئے کیونکہ انہوں نے ملک کو آزادی دلائی اور انڈمان و نکوبار جزائر کو بھی نیتاجی کے نام سے موسوم کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ان یوارڈز کا اعلان مہاراشٹرا اور ہریانہ کے بشمول چار ریاستوں میں انتخابات کے بعد اعلان کیا جانا چاہئے ۔ ایک اور سینئر کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ شہید بھگت سنگھ ‘ راج گرو اور لالہ لاجپت رائے کے ناموں پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔

اس دوران نیتاجی کے رشتہ داروں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ افراد خاندان کی اکثریت اس ایوارڈ کو قبول نہیں کرنا چاہتی ۔ نیتاجی کے پوتر بھانجے چندر کمار بوس نے ادعا کیا کہ بیشتر افراد خاندان اس ایوارڈ کے مخالف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ایوارڈ سے قبل ان کی موت کے معمہ کو حل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نیتاجی 1945 سے لاپتہ ہیں اور اگر آپ کو ان کو بعد از مرگ یہ ایوارڈ دے رہے ہیں تو آپ کو یہ کہنا چاہئے کہ وہ کب فوت ہوئے تھے ۔ اس کا ثبوت کہاں ہے ۔ ان کو اعزاز دینے کا بہترطریقہ یہ ہے حکومت ان کے لاپتہ ہوجانے کے معمہ کو حل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ 60 رشتہ داروں سے بات کرچکے ہیں کوئی بھی ایوارڈ قبول کرنے تیار نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT