Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / سبیتا اندرا ریڈی اپنے فرزند کے سیاسی مستقبل کو درخشاں بنانے کوشاں

سبیتا اندرا ریڈی اپنے فرزند کے سیاسی مستقبل کو درخشاں بنانے کوشاں

حیدرآباد 5 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں جیسے جیسے عام انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں ویسے ویسے سیاسی قائدین نہ صرف اپنے (جانشینوں) ، وارثوں کو آئندہ انتخابات میں اُتارنے کیلئے تیاریاں شروع کرچکے ہیں بلکہ انھیں سیاسی زندگی میں عملی طور پر اُتار رہے ہیں۔ ان ہی سیاسی قائدین میں ایک خاتون سیاسی قائد و سابق وزیرداخلہ شریمتی پی سبیتا ان

حیدرآباد 5 جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں جیسے جیسے عام انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں ویسے ویسے سیاسی قائدین نہ صرف اپنے (جانشینوں) ، وارثوں کو آئندہ انتخابات میں اُتارنے کیلئے تیاریاں شروع کرچکے ہیں بلکہ انھیں سیاسی زندگی میں عملی طور پر اُتار رہے ہیں۔ ان ہی سیاسی قائدین میں ایک خاتون سیاسی قائد و سابق وزیرداخلہ شریمتی پی سبیتا اندرا ریڈی بھی اسی راستہ پر گامزن ہوتے ہوئے اپنے بڑے فرزند مسٹر کارتک ریڈی کو اپنے (جانشین) وارث کی حیثیت سے سیاست میں عملی طور پر اُتار رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شریمتی سبیتا اندرا ریڈی نے اپنے فرزند کے درخشاں سیاسی مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے تلنگانہ کی تعمیر جدید کے نام پر پدیاترا شروع کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پدیاترا کے ایک حصہ کے طور پر حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کے حدود میں 101 کیلو میٹر طویل مسافت تک پدیاترا شروع کرنے کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور توقع ہے کہ 8 جنوری سے پدیاترا شروع ہوکر 12 جنوری کی شام میں اس پدیاترا کا تانڈور میں اختتام عمل میں آئے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ اس مجوزہ پانچ روزہ کارتک ریڈی کی پدیاترا کے آغاز کے موقع پر ریاستی وزیر پنچایت راج مسٹر کے جاناریڈی کے علاوہ دیگر ریاستی وزراء علاقہ تلنگانہ بھی شریک رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ کے سیاسی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے شریمتی پی سبیتا اندرار یڈی اپنے فرزند کو عملی سیاست میں لاتے ہوئے ابھی سے انتخابی تیاریوں کا آغاز کررہی ہیں اور سمجھا جارہا ہے کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے اگر مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی انتخابی مقابلہ نہ کرنے کی صورت میں ان کے بجائے مسٹر کارتک ریڈی کو اس حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے پارٹی ٹکٹ دلواکر مقابلہ کروانے کیلئے شریمتی سبیتا اندرا ریڈی سنجیدگی سے کوشاں دکھائی دے رہی ہیں اور اگر یہ ممکن نہ ہونے کی صورت میں اسی حلقہ لوک سبھا کے کسی ایک حلقہ اسمبلی سے بھی مقابلہ کروانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT