Wednesday , May 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو 

سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو 

پروفیسر رابعہ مدنی                                                                                             مرسلہ : شیخ فہد
یہ کائنات جو صدیوں سے خزاں کی زد میں تھی ، اس میں بہار آنے کو تھی ۔ یہ انسانی تاریخ کی وہ ساعت تھی ، جس کے انتظار میں زمین و آسمان کروڑوں برس سے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے تھے ، وہ ہستی ظہور پذیر ہونے والی تھی ، جس پر خود خالق کائنات کو ناز ہے ۔ باعثِ تخلیق کائنات ، وہ   فخرِ کونین ؐ جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ؑ تک سب ہی پیغمبروں نے دی ، آپؐ کی ذات ، وہ ذاتِ گرامی ہے، جسے توحید کا آفاقی پیغام پہنچانا تھا اور درحقیقت یہی وہ ذاتِ باسعادت ہیں، جن کے لئے کائنات تخلیق کی گئی ، بقول مولانا ظفر علی خان
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو
قرآن نے آپؐ کے متعلق فرمان جاری کیا : ’’بے شک آپؐ تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجئے گئے ہیں‘‘۔ آپؐ کیا تشریف لائے کہ آفتاب ہدایت کی کرنیں اپنے نور کے ساتھ ہر طرف پھیل گئیں، آپؐ کی ولادتِ باسعادت بارہ (۱۲) ربیع الاول بروز پیر ۵۷۱ء میں ہوئی ۔ آپؐ کا نام محمدؐ رکھا گیا۔ نبوت کے بعد حضرت محمد   پیغمبر اعظم اور خاتم الانبیاء کے پاکیزہ خطابات سے سرفراز ہوکر رشد و ہدایت اور تبلیغ دین کے عظیم منصب پر فائز ہوئے ۔ آپؐ کی آمد سے قبل دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ، یکایک آفتاب اسلام طلوع ہُوا ، دنیا کی قسمت جگمگا اٹھی ، روئے زمین کے سرتاج کا ظہور ہوا اور اس کے فوراً بعد ایک مثالی اُمّت کی تشکیل عمل میں آئی ، جس کا کام ساری قوموں کو دین کی دعوت دینا ہے ۔ نورِ اسلام کی کرنیں چہارسو پھیلیں ، اسلام کا مثالی نظام قائم ہوا ، اسلامی حکومت کی تاسیس عمل میں آئی ، جو دنیا میں بُرے تھے ، سب سے اچھے ہوگئے ۔ خدا کی شان ہے ، ساری دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ اس سے بہتر انقلاب نہ تاریخ نے دیکھا اور نہ اسلام سے علحدہ ہوکر آئندہ تاریخ دیکھے گی۔
ہر بڑے واقعے کے ظہور سے پہلے کچھ ایسے آثار رونما ہوتے ہیں ، جن سے اُس واقعے کی حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے ۔ پیغمبر اعظم حضرت محمد ﷺ کی     والدۂ ماجدہ نے اُس شرف کو محسوس کرلیا تھا ، جو آپؐ کے وجود گرامی سے ظاہر ہونے والا تھا ، آپؐ کی ولادت باسعادت سے قبل بی بی آمنہ نے ایک عجیب خواب دیکھا، جس کی تعبیر یہ دی گئی کہ انسانیت کو ہدایت اور نجات نصیب ہوگی۔ ایسا ہی ایک خواب بزرگوار دادا عبدالمطلب نے بھی دیکھا کہ مشرق سے مغرب تک ایک سنہری زنجیر ہے ، جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ اُن کی نسل میں ایک ایسی ہستی پیدا ہوگی ، جس کے تابعِ فرمان اہلِ مشرق و مغرب ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ خالد بن العاص نے خواب میں دیکھا کہ زمزم سے روشنی کا فوّارا بلند ہورہا ہے ۔ جب آنحضرتؐ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور امّت مسلمہ کی تنظیم کا وقت آیا تو خالد محض اس خواب کے اثر سے مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہوگئے۔
آپؐ جس سال عالمِ موجودات میں تشریف لائے ، وہ عام الفیل کا سال تھا ۔ جب دنیا کے مقدس دینی اور تاریخی مرکز مکۂ معظمہ میں یہ واقعہ ایک ہولناک سانحے کی صورت میں رونما ہوچکا تھا ، تو وہ ہستی پیدا ہوئی ، جس کے دم قدم سے ساری دنیا کی ہدایت ، سلامتی اور امن وابستہ تھا۔ بارہ سال کی عمر میں عیسائی راہب بحیرہ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ کر پیش گوئی کی کہ انجیلِ مقدس کے مطابق یہ بچّہ ساری دنیا کا سردار ہوگا۔ بیس سال کی عمر میں آپؐ نے حرب فجار کا محاذ دیکھا اور صلح نامہ میں شرکت کی ، اس معاہدے کی واحد دفعہ یہ تھی کہ کوئی عرب ، مظلوم کے مقابلے میں ظالم کی مدد اور حمایت نہیں کرے گا ۔ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ یہ معاہدہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی ہے ۔ ۲۵سال کی عمر میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے سرفراز ہوئے ، چالیس برس کی عمر میں نبوّت و رسالت کے عظیم منصب سے سرفراز ہوئے ۔ حکومت الٰہی کے واجبات اور احکامِ خداوندی پر مامور ہوئے ۔ آنحضرتؐ کا ۱۱ ہجری میں وصال ہوا ۔ آپؐ کی زندگی کا ایک ایک پل تاریخ میں محفوظ ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے ۔ محسنِ انسانیت ، پیغمبر رحمت ﷺ نے دنیا کو توحید کے نور سے منور کیا ، آپؐ نے    کفر و شرک ظلم و جہالت کی تاریکیوں کو ختم کیا ، آپؐ نے ایک ایسا انقلاب برپا کیا ، جس کی بنیاد تحمل و برداشت ، اتفاق و اتحاد ، رواداری ، انسان دوستی اور امن و سلامتی پر تھی۔ آپ نے دنیا کو توحید کی دعوت دی ، آپ کا آفاقی پیغام آج بھی زندہ ہے ، اس کی تاثیر آج بھی وہی ہے ، جس کی بنیاد پر آپ نے ایک مثالی معاشرہ قائم کیا ۔ آپ کی تعلیمات میں آج بھی وہی اثرانگیزی ہے ۔ یہ مسلم اُمّہ کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا میں توحید کا نور عام کرنے اور اسلام کا آفاتی پیغام ساری انسانیت کو پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
TOPPOPULARRECENT