Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / ستمبر کے پہلے ہفتے میں کل جماعتی وفد کا دورہ کشمیر

ستمبر کے پہلے ہفتے میں کل جماعتی وفد کا دورہ کشمیر

عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات کا منصوبہ ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی آج وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرینگی

نئی دہلی 26 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) امکان ہے کہ ایک کل جماعتی وفد ماہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں کشمیر کا دورہ کریگا ۔ وادی کشمیر میں جاری بدامنی اور ہنگامہ آرائیوں کے دوران یہ وفد ریاست میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں بھی کریگا ۔ مرکزی حکومت اس دورہ کے شیڈول کو قطعیت دینے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی کریگی ۔ اس دورہ کا مقصد وادی کشمیر میں امن کو بحال کرنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے ۔ ریاست میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے حالات دگرگوں ہیں۔ وفد کی روانگی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے چیف منسٹر محبوبہ مفتی سے کہا ہے کہ وہ اس دورہ کی تیاریاں کرے ۔ ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر کو کل جماعتی وفد کی روانگی کے مسئلہ پر ہی چیف منسٹر محبوبہ مفتی کل وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات میں تبادلہ خیال کرینگی ۔

جموں و کشمیر کو کل جماعتی وفد کی روانگی سمجھا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو ریاست میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش ہے ۔ حکومت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ریاست میں بدامنی کی کیفیت بہت زیادہ دن برقرار رہ گئی ہے ۔ یہ سلسلہ 48 دن سے جاری ہے اور اب حالات کو معمول پر آجانا چاہئے ۔ اب تک پیش آئے تشدد کے واقعات میں67 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا 25 اور 26 اگسٹ کو دورہ کشمیر ایک ماہ میں دوسرا دورہ تھا تاکہ وہاں حالات کو معمول پر لانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت ریاست میں کسی سے بھی بات چیت کرنے تیار ہے تاکہ وہاں کے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کو ختم کیا جاسکے ۔

یہ بات چیت انسانیت ‘ جمہوریت اور کشمیریت کے دائرہ کار میں ہوگی ۔ اس دوران چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کل نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے والی ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مرکزی حکومت نے ریاست کو یہ واضح پیام دیدیا ہے کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو کنٹرول کیا جانا چاہئے ۔ وادی میں 8 جولائی سے جاری بدامنی کے بعد سے محبوبہ مفتی کی یہ نریندر مودی سے پہلی ملاقات ہوگی ۔ سرکاری ذرائع کے بموجب مرکز نے محبوبہ مفتی پر بالکل واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ تشدد کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے ۔ تشدد کو روکنے میں ناکامی پر محبوبہ مفتی کو تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مرکز نے واضح کردیا ہے کہ یہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنا ریاستی حکومت کا کام ہے ۔ جاریہ ہفتے کے اوائل میںنریندر مودی سے جموں و کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفد نے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ کی قیادت میں ملاقات کی تھی ۔ اس ملاقات کے بعد مودی نے پہلی مرتبہ ریاست کے حالات پر تشویش اور دکھ کا اظہار کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT