Saturday , June 23 2018
Home / Mera Column / سجاد ظہیر

سجاد ظہیر

 (1973-1905 ئ)
میرا کالم مجتبیٰ حسین
جب میں چھوٹا تھا تو میرے دو بڑے بھائی ابراہیم جلیس اور محبوب حسین جگر کسی ’’بنّے بھائی‘‘ کے بارے میں آپس میں اکثر بات چیت کیا کرتے تھے۔ بنّے بھائی یہ کررہے ہیں، بنّے بھائی ایسے ہیں، بنّے بھائی ویسے ہیں۔ اور میں سوچتا کہ بنّے بھائی بھی بڑے عجیب و غریب آدمی ہیں کہ خاندان میں ان کا اتنا ذکر ہوتا ہے لیکن یہ خاندان سے اتنے بے تعلق رہتے ہیں کہ کبھی پلٹ کر نہیں پوچھتے کہ ہم لوگ کس حال میں ہیں۔
پھر جب میں نے ذرا ہوش سنبھالا تو پتہ چلا کہ یہ بنّے بھائی اصل میں ادب کے بنّے بھائی ہیں۔ سیاست اور سماج میں ’’بھائی بندی‘‘ کا رونا تو ایک معمول ہے۔ لیکن ادب میں یہ انوکھی بات تھی۔ میرا خیال ہے کہ اردو زبان کے سوائے دنیا کی کسی اور زبان کو ’’بنّے بھائی‘‘ جیسا ’’بھائی‘‘ نصیب نہ ہوسکا جو سارے ادیبوں کو ایک ہی خاندان کا فرد سمجھتا ہو۔
مجھے یاد ہے کہ اُن دنوں بنّے بھائی، فیضؔ، مخدومؔ، سردار جعفری اور کرشن چندر کی تحریروں نے ہم سب پر کچھ ایسا جادو کیا تھا کہ ہم ہردم ’’انقلاب‘‘ کی آمد کے منتظر رہتے۔ ایک ایسی سرشاری تھی کہ دروازے پر کوئی دستک بھی دیتا تو گمان ہوتا تھا کہ یہ دستک انقلاب کی ہے۔
پتّیاں کھڑکیں تو یہ سمجھا کہ لو آپ آ ہی گئے
انقلاب کو دیکھنے کی آس میں ہم لوگ علی الصبح نیند سے بیدار ہوجایا کرتے تھے۔ برسوں اسی بے چینی اور انتظار میں گزرے، انقلاب تو نہ آیا البتہ علی الصبح بیدار ہونے کی عادت پڑگئی۔
بنّے بھائی کے بارے میں اتنا کچھ پڑھ رکھا تھا کہ انہیں دیکھنے کی بڑی تمنّا تھی۔ انہیں پہلے پہل حیدرآباد کے ایک ادبی جلسے میں دیکھا۔ جب تقریر کے لیے ان کا نام پُکارا گیا تو وہ حاضرین کی اگلی صف میں سے اٹھ کر یوں سبک خرامی کے ساتھ مائک پر آئے کہ انہیں دیکھنے کی ساری آرزو کا ستیاناس ہوگیا۔ ان کے چلنے کے انداز میں ایسی نرمی، آہستگی، ٹھیرائو اور دھیما پن تھا کہ یکبار گی مجھے یہ وجہ سمجھ میں آگئی کہ ہمارے ملک میں انقلاب کے آنے میں اتنی دیر کیوں ہورہی ہے۔ انقلابی کا تصور ہمارے ذہن میں یہ تھا کہ اسے سراسر آگ، سراسر شعلہ، سراسر حرکت اور سراسر تیزی ہونا چاہئے۔ یقین ہی نہ آیا کہ یہ وہی بنّے بھائی ہیں جن سے حکومت خائف ہے۔ پھر حکومت پر بھی ترس آیا کہ یہ کیسی کیسی معصوم اور بے ضرر شخصیتوں سے خوف زدہ رہتی ہے۔
اس دن بنّے بھائی نے کیا تقریر کی یہ مجھے یاد نہیں، کیوں کہ ان کی تقریر بھی ان کی چال کی طرح تھی۔ رکتی، ٹھہرتی اور سنبھلتی ہوئی، مگر رکنے ٹھہرنے اور سنبھلنے کے دوران میں جب جب بنّے بھائی مسکرادیتے تھے تو ان کی تقریر میں بڑی جان پیدا ہوجاتی تھی، اس دن پہلی بار احساس ہوا کہ بعض مسکراہٹیں اپنے اندر تحریر و تقریر سے کہیں زیادہ اظہار کی صلاحیتیں رکھتی ہیں۔ بنّے بھائی کی مسکراہٹ میں اتنی زبردست قوتِ گویائی تھی کہ وہ صرف مسکرادیتے تو لفظ و معنی کے دفتر کھل جاتے تھے۔ مسکراہٹ کیا تھی، اچھی خاصی ڈکشنری تھی۔ یہ مسکراہٹ بجائے خود ایک زبان تھی، ایک رسم الخط تھی، اس مسکراہٹ کے رسم الخط کو صرف وہی لوگ پڑھ سکتے تھے جو لطیف جذبوں کا کاروبار کرنا جانتے ہیں۔
مونالیزا کی شہرۂ آفاق مسکراہٹ کے بعد اگر کسی مسکراہٹ نے مجھے مسحور کیا تو یہ بنّے بھائی کی مسکراہٹ تھی۔ ان دونوں مسکراہٹوں میں فرق صرف اتنا ہی کہ لیونارڈو ڈاونسی نے مونالیزا کی مسکراہٹ کو کینوس پر قید کرلیا تھا جب کہ بنّے بھائی کی مسکراہٹ پھیل کر ایک عقیدہ، ایک نظریہ اور ایک تحریک بن گئی اور پھر یہ مسکراہٹ ہمارے ادب، ہمارے ذہن، ہمارے احساس اور ہماری فکر کا ایک اٹوٹ حصہ بن گئی۔ مجھے تو بعض اوقات پوری ترقی پسند تحریک کے پیچھے بنّے بھائی کی مسکراہٹ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔
بنّے بھائی بہت بڑے ادیب تھے لیکن ان کی مسکراہٹ ان کے ادب سے بھی بڑی تھی۔ اگر ان کے پاس دلوں میں اُترجانے والی مسکراہٹ نہ ہوتی تو شاید بنّے بھائی اتنی بڑی تحریک نہ چلاپاتے۔
بنّے بھائی کی مسکراہٹ کی خوبی یہ تھی کہ اس کے بے شمار پہلو اور بے شمار رنگ تھے۔ ایسا تنّوع تھا کہ ہر بار ان کی مسکراہٹ، پچھلی مسکراہٹوں سے الگ معلوم ہوتی تھی۔ کبھی یہ مسکراہٹ معصومیت کا لباس پہن لیتی، کبھی یہ سراسر شفقت بن جاتی، کبھی محبت، کبھی عزم، کبھی حوصلہ، کبھی نرمی، کبھی شائستگی، کبھی عقیدہ، کبھی طنز اور کبھی کبھی تو یہ مسکراہٹ سراسر دردو کرب تک کا روپ دھارن کرلیتی تھی۔ بنّے بھائی کی مسکراہٹ کے کتنے روپ گنائوں۔
میں اکثر مذاق میں کہا کرتاتھا کہ بنّے بھائی کی مسکراہٹ کبھی خالص نہیں ہوتی۔ اس میں ہمیشہ کسی نہ کسی جذبے کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنّے بھائی کم بولتے ہیں اور ان کی مسکراہٹ زیادہ بولتی ہے۔ اسی مسکراہٹ کے دھاگے سے بندھ کر میں بنّے بھائی سے قریب ہوا تھا۔ 1966 ء میں ان سے پہلی بار ملاتھا۔ چھوٹوں کی ہمت افزائی کے لیے ان کے پاس ایک الگ سی مسکراہٹ ہوتی تھی۔ یہ مسکراہٹ اس فرق کو پاٹ دیتی تھی جو ان کے اور چھوٹوں کے درمیان ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ اس مسکراہٹ کے ذریعہ میری ہمت افزائی کرتے رہے۔ وہ مجھے اتنا عزیز رکھتے تھے کہ لگتا تھا وہ شاید کسی اور کو اتنا عزیز نہ رکھتے ہوں۔ مگر بات ایسی نہیں تھی۔ وہ عزیز رکھنے کے معاملے میں بھی مساوات کے قائل تھے۔ ہر شخص کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے بنّے بھائی اسے سب سے زیادہ عزیز رکھتے۔
پھر میرے بچپن کے دوست علی باقر جب ان کے داماد بنے تو ان کی ہمت افزائی والی مسکراہٹ میں میرے لیے کچھ اور گہرائی آگئی۔ مجھے یاد ہے، ایک بار بنّے بھائی حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔ علی باقر کو ایک جلسے میں مضمون پڑھنا تھا۔ جلسے کے کنوینر کی حیثیت سے مجھے علی باقر کا تعارف کرانا تھا۔ میں نے علی باقر کے تعارف کے سلسلے میں اور بہت سی باتیں کہنے کے علاوہ یہ بھی کہہ دیا کہ ’’علی باقر کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ یہ ہم سب کے بنّے بھائی کے داماد ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کے بنّے بھائی کے داماد بننے کی وجہ سے بنّے بھائی کی شہرت میں اضافہ ہورہا ہے۔‘‘
اس جملے پر لوگوں کو ہنسنا تو تھا ہی لیکن بنّے بھائی کچھ اس طرح مسکرائے کہ یوں لگا جیسے آسمان پر قوسِ قزح سی تن گئی ہو۔
1972ء میں جب میں دہلی آیا تو بنّے بھائی کو اور بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ کئی ادبی جلسوں میں یوں بھی ہوتا کہ بعض نوجوان ادیب ان پر سخت اعتراضات کرتے، شدید حملے کرتے مگر بنّے بھائی ہر اعتراض کو اپنی مسکراہٹ کے ساتھ سنتے اور پھر اسی مسکراہٹ کے ساتھ ان کا جواب بھی دیتے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ بنّے بھائی کو شاید ہی کسی نے غصہ کی حالت میں دیکھا ہو۔ وہ غصہ کرنے کے گُر سے واقف ہی نہ تھے۔ ذرا سوچئے کہ وہ کتنی بڑی نعمت سے محروم تھے۔ کیوں کہ ایک انقلابی کے لیے غصہ کے بغیر زندگی کو برتنا ایسا ہی تھا جیسے ایک بھوکے شیر کے سامنے ایک نہتے آدمی کو چھوڑنا لیکن اس کے باوجود بنّے بھائی بھوکے شیروں پر قابو پالیتے تھے۔
1972ء کی سردیوں میں ایک بار انہوں نے مجھے اور آمنہ ابوالحسن کو اپنے ہاں رات کے کھانے پر بلایا۔ آمنہ ابوالحسن کے ساتھ ان کی نوزائدہ بچی نیلوفر بھی تھی۔  چنانچہ وہ نہ جانے کتنی دیر تک اس بچی کو خوش کرنے اور ہنسانے کی کوشش میں لگے رہے۔ یوں لگا جیسے اس رات کی اصل مہمان وہی بچی تھی۔ میں نے رضیہ آپا سے کہا ’’رضیہ آپا، بنّے بھائی تو نوزائدہ بچوں تک کی ہمت افزائی کرنے سے نہیں چوکتے۔‘‘ اس رات پتہ چلا کہ چھوٹے بچے بنّے بھائی کی کتنی بڑی کمزوری تھے۔
بنّے بھائی اپنی شخصی زندگی میں بڑے محتاط اور معتدل واقع ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے رضیہ آپا خوش قسمت ہیں کہ انہیں کبھی بنّے بھائی کو اس طرح سدھانا نہیں پڑا جس طرح دیگر شاعروں اور ادیبوں کی بیویاں اپنے شوہروں کو سدھاتی ہیں۔ سدھاسدھایا شوہر کسے ملتا ہے۔
بنّے بھائی جب ا پنی آخری روس یاترا  پر جانے لگے تو دو دن پہلے مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ بڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ پھر بولے ’’دلّی میں تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘ وہ ہمیشہ چند دنوں کے وقفہ کے بعد اکثر مجھ سے یہ سوال پوچھ لیا کرتے تھے۔ اس دن میں نے اپنی ایک پریشانی کا ذکر کیا تو بولے ’’میں ماسکو سے آلوں تو ملنا، تمہارے مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے۔‘‘
پھر وہ ماسکو چلے گئے۔ جب وہ ماسکو میں تھے تو ہم چند احباب نے غالبؔ اکیڈیمی میں ’’مزاح نگاروں کے ساتھ ایک شام‘‘ کے عنوان سے ایک محفل منعقد کی اور رضیہ آپا سے خواہش کی کہ وہ اس محفل میں بنّے بھائی پر ان کا لکھا ہوا خاکہ پڑھیں۔ رضیہ آپا نے یہ خاکہ پڑھا۔ ان کے ایک ایک جملے پر محفل زعفران زار بن گئی۔ خاکے میں رضیہ آپا نے ایک جگہ لکھا تھا:
’’سجاد ظہیر جب گھر سے نکلتے ہیں تو ان کے گھر لوٹنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ کبھی سرشام آئیں گے اور کبھی رات دیر گئے۔ ایک بار یہ گھر سے ایسے گئے کہ پانچ چھ سال بعد لوٹے۔‘‘
(پانچ چھ سال بعد لوٹنے کی بات رضیہ آپا نے ان کی پاکستان یاترا کے پس منظر میں کہی تھی) اس بات پر سامعین نے فلک شگاف قہقہے بلند کئے۔ اس محفل کے بعد ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ اطلاع آئی کہ بنّے بھائی اب کی بار کبھی نہ لوٹ آنے کے لیے گھر سے گئے تھے۔ پھر ان کی نعش جب آخری دیدار کے لیے ونڈسر پیلس میں رکھی گئی تو میں نے سوچا کہ اب کی بار آنکھیں بنّے بھائی کی دلکش اور دلفریب مسکراہٹ کو دیکھنے سے محروم رہ جائیں گی۔ مگر جب میں ان کی نعش کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ پھولوں کے ڈھیر میں ان کے ہونٹ تب بھی مسکرارہے تھے۔ موت نے بنّے بھائی کا سب کچھ چھین لیا تھا لیکن ان کی مسکراہٹ موت کی زد سے پرے تھی۔ یہ بڑی عجیب و غریب مسکراہٹ تھی۔ بڑی اٹل، اٹوٹ، مستحکم، عزم والی اور راسخ العقیدہ مسکراہٹ۔ جیسے یہ مسکراہٹ بنّے بھائی کی ساری زندگی کا نچوڑ ۔ ان کا عقیدہ ان کا نظریہ تھی۔ میں اس حیران کن مسکراہٹ کو یوں دیکھتا رہا جیسے اس مسکراہٹ کو حرف بہ حرف پڑھنا چاہتا ہوں۔ یہ کیسی مسکراہٹ ہے آخر… میں سوچنے لگا، قدیم وحشی انسان کے غیر مہذب اور بے ہنگم قہقہے سے لے کر بنّے بھائی کی مسکراہٹ تک انسانی تہذیب نے جو نشیب و فراز دیکھے ہیں اور جو ا ٓگہی حاصل کی ہے وہی آگہی اصل میں بنّے بھائی کی مسکراہٹ ہے۔ پھر مجھے بنّے بھائی کی مسکراہٹ سمندر کی ایک لہر کی طرح دکھائی دی جو ہر دم آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے۔ وہ مسکراہٹ جو کینوس یا ہونٹوں میں قید ہونا نہیں جانتی بلکہ ہردم زندگی کی خوشگواری، جدوجہد اور عمل کا حصہ بننا جانتی ہے۔
(1973ئ)

TOPPOPULARRECENT