Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / سدا رمیا حکومت پر بائیں بازو کے اثرات کا جواب ضروری:آر ایس ایس

سدا رمیا حکومت پر بائیں بازو کے اثرات کا جواب ضروری:آر ایس ایس

شموگا، 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کا راستہ درست کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک سینئر لیڈر نے آج کہا کہ ریاست کی سدارمیا انتظامیہ پر نرم بائیں بازو کی پارٹی کے ‘ دانشوروں’کے اثرات کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ آر ایس ایس لیڈر اور ضلع (شموگا) برہمن مہا سبھا کے صدر نٹراج بھاگوت نے یہاں ‘ یو این آئی’ سے یہ بات کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کے سابق وزیر اعلی اور پارٹی کے سینئر لیڈر بی ایس یدیورپا کے خلاف بدعنوانی کے معاملہ اور سال 2008-13 کے دوران عوام کی خواہشات کو پورا کرنے میں بی جے پی کی ناکامی جیسے ایشوز انتخابات میں پارٹی کے خلاف اہم منفی عوامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ‘نریندر مودی فیکٹر’اور’ ہندو اتحاد’ بی جے پی کو ایک بار پھر کرناٹک میں اقتدار میں لانے میں مدد کریں گے ۔مسٹر بھاگوت نے کہا”کانگریس کے حقیقی رہنما کنارے گئے ہو گئے ہیں اور سدا رمیا انتظامیہ نرم بائیں بازو پارٹی کے نام نہاد دانشوروں کے اثرات میں ہے ۔ کرناٹک کو بچانے کے لئے اس اثر کوتوڑ نے کی ضرروت ہے ”۔خیال رہے بی جے پی 2008 کے اسمبلی انتخابات میں کرناٹک میں اکثریت سے اقتدار میں آئی تھی اور پارٹی کے لئے کسی بھی جنوبی ہندوستانی ریاست میں حکومت بنانے کا یہ پہلا موقع تھا۔ایک سوال کے جواب میں مسٹر بھاگوت نے کہا، “کانگریس حکومت ہندو سماج کو بانٹنے کی لگاتار کوشش کرتی رہی ہے اور اس کے لئے کئی قسم کی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں اور مختلف طرح کے ھتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ سدا رمیا انتظامیہلنگایت جیسے بے معنی مسئلہکو لے کر آیا اور یہ الٹے اسی پر بھاری پڑ گیا۔ بائیں بازو کی پارٹی کے اثرات میں آکر کانگریس نے ایس سی ایس ٹی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے حکم پر بھی شور وغل کیا جبکہ عدالت عظمیٰ کا حکم صرف قانون کے غلط استعمال کو روکنا ہے ”۔
انہوں نے کہا”کرناٹک میں انتخابی ماحول میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، وہ کچھ نیا نہیں ہے ۔ کانگریس اور اس کے نرم بائیں بازو پارٹی کے لوگوں نے گجرات میں پاٹیدار وں کے مسئلہ پر اکساکر اسے کیش کرانے کی کوشش کی تھی۔انتخابات ختم ہو جانے کے بعد پاٹیدار وں کے مسئلہ کو کسی نے نہیں سنا۔ کانگریس کا منفی موقف کا بھانڈاپھوٹ گیا ہے ۔ دلتوں کی ناراضگی کا مسئلہ صرف میڈیا میں ہے ۔ درج فہرست ذات و قبائل (ظلم رکاوٹ) ایکٹ پر سپریم کورٹ کے حکم پر مخالفت منظم اور خفیہ طریقے سے کی گئی ”۔ انہوں نے کہا، “ہندو سماج کو مسلسل بانٹنے کی کوششوں سے صرف نظر یہ اور مضبوط ہوا ہے ۔ اب بڑی تعداد میں لوگ دہشت گردی اور مسلم نوجوانوں کے انتہا پسندی سے متعلق مسائل اور اس کے جواب کی ضرورت پر کھلے طور پر بول رہے ہیں۔ نریندر مودی فیکٹر آج مزید موزوں ہو گیا ہے ”

TOPPOPULARRECENT