Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سدھیر کمیشن آف انکوائری کے لیے چیف منسٹر کے پاس وقت نہیں

سدھیر کمیشن آف انکوائری کے لیے چیف منسٹر کے پاس وقت نہیں

شام تک صبر آزما انتظار کے بعد جمعہ کا وقت مقرر ، اقلیتوں کے مسائل پر سنجیدگی کا سوالیہ نشان
حیدرآباد ۔ 10۔ اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اقلیتوں کے مسائل ان کی ترقی اور تحفظات کی فراہمی سے متعلق وعدہ کی تکمیل سے اس حد تک دلچسپی ہے کہ اس کا اندازہ آج سدھیر کمیشن آف انکوائری کو ہوا۔ کمیشن مسلمانوں کی پسماندگی اور تحفظات کی فراہمی کے بارے میں چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے دن بھر انتظار کرتا رہا لیکن انہیں چیف منسٹر کے دفتر سے کوئی بلاوا نہیں آیا۔ کمیشن کے صدرنشین ، ارکان اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو انتظار کی تلخ صعوبتوں سے گزرنا پڑا اور شام میں چیف منسٹر کے دفتر نے اطلاع دی کہ مصروفیات کے سبب چیف منسٹر کمیشن سے ملاقات کرنے سے قاصر ہیں۔ لہذا جمعہ کو ملاقات کیلئے وقت مقرر کیا جائے گا ۔ ایسا نہیں ہے کہ کمیشن نے اپنے طور پر یہ انتظار کیا بلکہ چیف منسٹر سے ملاقات کا وقت طلب کرنے پر آج کا وقت دیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر کے دفتر نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وہ صبح سے تیار رہیں، انہیں کسی بھی وقت بلایا جاسکتا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار ٹی سدھیر اور ارکان پروفیسر عبدالشعبان ، عامر اللہ خاں اور ایم اے باری صبح سے اپنی رپورٹ کے ساتھ دفتر میں بلاوے کا انتظارکرتے رہے۔ انہوں نے رپورٹ کی پیشکشی کے موقع پر سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو بھی موجود رہنے کی خواہش کی جس پر وہ بھی کمیشن کے دفتر پہنچ گئے۔ کمیشن کے عہدیدار وقت کے تعین کے سلسلہ میں بارہا چیف منسٹر کے دفتر اور چیف منسٹر کے سکریٹری سے ربط قائم کرتے رہے لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد چیف منسٹر کے دفتر نے اطلاع دی کہ جمعہ کے دن ملاقات کی جاسکتی ہے

اور ایک دن قبل وقت کے بارے میں اطلاع دی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر میں سوائے بیرونی مہمانوں کی دوسروں کی ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا جاتا اور انہیں صبح سے انتظار کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ چیف منسٹر جب کبھی ملاقات کرنا چاہیں تمام کو ایک ساتھ آنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اس بارے میں جب چیف منسٹر کے قریبی ذرائع سے معلوم کیا گیا تو پتہ چلا کہ چیف منسٹر کی اچانک بعض اہم مصروفیات کے سبب سدھیر کمیشن کو ملاقات کا وقت نہیں دیا جاسکا۔ کمیشن کو اس بات پر حیرت ہے کہ حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر کے دفتر سے رپورٹ کی جلد پیشکشی کیلئے دباؤ بنایا گیا اور اب جبکہ کمیشن نے دن رات محنت کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرلی تو اسے حاصل کرنے میں حکومت کو دلچسپی نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی اور پسماندگی کے خاتمہ کے بارے میں حکومت کی عدم دلچسپی کا اس سے بڑھ کر مظاہرہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ سدھیر کمیشن کیلئے بھی چیف منسٹر کے پاس وقت نہیں ہے ۔ رپورٹ کی تیاری میں اہم رول ادا کرنے والے دو ماہرین پروفیسر عبدالشعبان اور عامر اللہ خاں آج صبح ہی حیدرآباد پہنچے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ پروگرام کے مطابق آج چیف منسٹر سے ملاقات ہوپائے گی۔ ان ارکان کو اب جمعہ تک حیدرآباد میں انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ کمیشن کو رپورٹ کی پیشکشی کیلئے کوئی زائد وقت کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کمیشن کے صدرنشین سفارشات کا سرسری طور پر تذکرہ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد سے حکومت کی ذمہ داری شروع ہوجائے گی۔ چیف منسٹر نے سرکاری دعوت افطار میں اعلان کیا تھا کہ سدھیر کمیشن کی رپورٹ ملتے ہی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا اور مسلم تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کی جائے گی۔ دستوری ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف قرارداد کی منظوری سے تحفظات حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اس کے علاوہ سرکاری احکام یا پھر آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ تحفظات کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی سفارشات ناگزیر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا چیف منسٹر جمعہ کو سدھیر کمیشن سے ملاقات کریں گے ؟ اگر کمیشن سے رپورٹ حاصل کرلی جائے تو پھر حکومت کیلئے تحفظات کے وعدہ کی تکمیل کے سلسلہ میں اقلیتوں کی جانب سے دباؤ کا آغاز ہوسکتا ہے ۔

پائلیٹ کے پاسپورٹ بھول جانے کے سبب
طیارہ کی روانگی میں تاخیر
حیدرآباد 10اگست (یواین آئی ) پائلیٹ کے پاسپورٹ بھول جانے کے سبب طیارہ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر ہوئی ۔ بنگلور سے براہ حیدرآباد دمام جانے والا طیارہ جب حیدرآباد کے شمس آباد ایر پورٹ پہونچا تو اس کے پائلیٹ کو یاد آیا کہ وہ بنگلور میں ہی اپنا پاسپورٹ بھول گیا ہے ۔ جس کے بعد اس پائلیٹ نے اپنے ساتھی پائلیٹس کے ذریعہ بنگلورو سے اپنا پاسپورٹ منگوایا ۔ اس کے آنے میں تاخیر پر اس فلائٹ کی دمام روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر ہوئی ۔

TOPPOPULARRECENT