Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سدی پیٹ میں بلدی انتخابات کے بعد سیاسی اتھل پتھل

سدی پیٹ میں بلدی انتخابات کے بعد سیاسی اتھل پتھل

نامزد عہدوں کیلئے سرگرمیاں تیز، اقلیتی قائدین بھی دعویداروں میں شامل
سدی پیٹ۔9 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سدی پیٹ کے بلدی انتخابات کے بعد یہاں پر سیاسی اتھل پتھل دیکھی جارہی ہے، چونکہ حکومت نے مختلف کارپوریشنوں میں نامزد عہدوں کے لئے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور ممکن ہے کہ کھمم کے پالیرو ضمنی چناؤ کے بعد ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹر اس جانب توجہ دیں گے۔ پالیرو ضمنی چناؤ اس لئے بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ وہاں پر صرف ٹی آر ایس اور کانگریس کے مابین ہی مقابلہ ہے چونکہ دیگر اپوزیشن پارٹیاں کانگریس امیدوار کے حق میں دستبرداری اختیار کرچکے ہیں اور بی جے پی اپنے آپ کو انتخابات سے دور رکھ چکی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ بشمول دیگر وزراء پالیرو میں ہی انتخابی مہم میں مصروف ہیں، جیسے ہی انتخاب ہوجائے گا۔ چیف منسٹر کی توجہ صرف کارپویشنوں کے صدور اور ڈائریکٹرس کی نامزدگی پر مبذول ہوجائے گی۔ سدی پیٹ بلدی انتخابات کے بعد آزاد امیدواروں نے بھی برسراقتدار پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ انتخابی مرحلے کے دوران پارٹی امیدواروں کے خلاف کھڑے رہنے والے امیدواروں کو ٹی آر ایس کے قائد نے اس بات کا پیشکش کیا تھا کہ انہیں نامزد عہدہ پر بشمول کوآپشن ممبر بلدیہ دیا جائے گا۔ انہیں اس تیقن کی بناء پر یہ امیدوار دستبردار ہوگئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض سیاسی چال بازیاں تھیں تاکہ مخالف پارٹلای امیدواروں کو فی الوقت ٹھنڈا کیا جاسکے۔ اس سیاسی حربے میں کسی حد تک پارٹی امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن اب وہی امیدوار ازسرنو طریقے پر کھڑے ہوکر اپنے لئے نامزد عہدوں کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی قائدین کو ان کا وعدہ یاد دلا رہے ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ سدی پیٹ بلدیہ کے کوآپشن ممبر کے تقررات کو ممکن ہے کہ مزید طوالت دی جائے چونکہ پارٹی قائد نے کئی لوگوں سے انہیں یہ عہدہ دینے کا تیقن دیا تھا۔ اس بات کا پتہ چلا ہے کہ نامزد عہدوں کے لئے اقلیتی قائدین ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس دوران یہ بھی معلوم ہے کہ ریاستی وزیر آبپاشی مسٹر ہریش راؤ بھی دو اقلیتی قائدین کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہیں کسی کارپوریشن میں ڈائریکٹر کی جگہ ملنی یقینی ہے اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایک سینئر عمر رسیدہ اقلیتی قائد بھی چیف منسٹر سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ انہیں کسی مناسب عہدہ پر نامزد کیا جائے گا۔ بہرحال سدی پیٹ کے کسی بھی اقلیتی قائد کو کسی بھی کارپوریشن کا صدرنشین کا عہدہ ملنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی زرعی مارکٹ کمیٹی میں ممکن ہے کہ ریڈی طبقہ کو صدرنشین کا عہدہ ملے جبکہ ریاستی کارپوریشن میں بلدیہ کے شکست خوردہ امیدوار وینکٹیشورلو (چنا) اور پی سائی رام کو بھی جگہ ملنے کی اطلاعات ہے۔ بہرحال ’’ایک انار ، سو بیمار‘‘ کے مصداق عہدے کم اور امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT