Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / سرتاج عزیز سے ملاقات نہ کرنے علحدگی پسندوں پر زور

سرتاج عزیز سے ملاقات نہ کرنے علحدگی پسندوں پر زور

سرحدوں پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی راہ تلاش کرنا ضروری ‘فاروق عبداللہ کا بیان

سرینگر 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام ) نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ نے آج کشمیری علحدگی پسند قائدین پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات نہ کریں۔ نئی دہلی میں سرتاج عزیز اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جموں کشمیر سرحدوں پر جاری کشیدگی کو فوری ختم کرنے کیلئے راہ تلاش کرنا ضروری ہے ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ میں علحدگی پسندوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ سرتاج عزیز سے ملاقات نہ کریں اور دونوں ملکوں کو قومی سلامتی مشیران سطح پر مذاکرات کرنے دیا جائے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سرحد پار سے شلباری کو روکنے کیلئے بات چیت ضروری ہے ۔ سابق چیف منسٹر جموں کشمیر نے وزارت خارجی امور کے پاکستان کو دیئے گئے اس مشورہ کا جواب دیا کہ پاکستان کو کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے ۔

سرتاج عزیز کے دورہ ہندوستان کے دوران علحدگی پسندوں کو بات چیت کیلئے مدعو کیا گیا ہے دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیران کی سطح پر 23 اگست کو ہندوستانی قومی سلامتی مشیر اجیت دویول کے ساتھ بات چیت ہونے والی ہے اور انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی جانب سے بات چیت منسوخ کردی گئی تو سرحد پر شلباری شروع ہوگی ۔ ہوسکتا ہے کہ اس شلباری میں شدت پیدا کردی جائے ۔ اس دوران انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے مفاد حاصلہ طاقتوں پر تنقید کی جو جموں کشمیر میں امن کی بحال کی دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس ترجمان جنید عظیم مٹو نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مذاکرات کے عمل کو تعطل کا شکار بنانا چاہتے ہیں جبکہ دہشت گردی سنگین حد تک بڑھتے جارہی ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیرکے بغیر بات چیت ہوتی ہے تو اس سے کوئی راستہ نہیںنکلے گا ۔

TOPPOPULARRECENT