Saturday , December 15 2018

سرجیکل اسٹرائیک کی تشہیر غلط ، فوجی کارروائی کو سیاست سے دور رکھنا چاہئے : سابق لیفٹننٹ جنرل

چندی گڑھ ۔ 8 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں فوجی جوانوں کے ذریعہ کی گئی سرجیکل اسٹرائیک پر مرکزی حکومت کے روئیے کو لے کر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل بی ایس ہڈا نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ گذشتہ روز ایک مباحثے میں بولتے ریٹائرڈ فوجی افسر ہڈا نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کی تشہیر سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور یہ اچھا بھی نہیں ہے کہ فوجی کارروائیوں پر سیاست ہو ۔ اس مباحثے کا عنوان ’ سرحد پار کارروائیاں اور سرجیکل اسٹرائیک کا کردار ‘ تھا ۔ اسٹرائیک کے بعد اپوزیشن نے حکومت سے کہا تھا کہ یہ اسٹرائیک روٹین کی کارروائیاں ہیں اور سیاسی فائدوں کے لیے ان کی تشہیر نہیں کرنی چاہئیے ۔ انگریزی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل بی ایس ہڈا نے واضح الفاظ میں کہا کہ خالص فوجی کارروائی پر منتخب ویڈیو اور تصاویر لے کر سیاست کی گئی جو اچھا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اگر کوئی پوچھے کہ کیا اس کی تشہیر سے کوئی فائدہ ہوا تو میں کہوں گا بالکل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کامیاب فوجی کارروائی کی بھی تشہیر کرتے ہیں تو اس کامیابی کو بھی نقصان ہوتا ہے ۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اگر آج دشمن کی کارروائی میں ہمارا جانی نقصان ہوتا ہے تو ہم ایسی کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ، نہیں ۔ کیوں کہ اس پر کافی تشہیر ہوگئی جس کی وجہ سے دشمن بھی ہوشیار ہوگیا اور قیادت بھی سوچے گی ، اگر ہم اس پر خاموشی اختیار کرتے تو ہمیں زیادہ سوچنا نہیں پڑتا ۔ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان کی طرف کافی گھبراہٹ تھی اور اس کی تشہیر سے وہ ہوشیار ہوگئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا کہ یہ کارروائی خفیہ رہتی ۔۔

TOPPOPULARRECENT