Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / سرحدات پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت

سرحدات پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت

جموں و کشمیر میں ہندوستان و پاکستان کے مابین سرحدات پر کشیدگی اور یہاں فائرنگ روز مرہ کا معمول بن گئی ہے ۔ فائرنگ میں دونوں ہی جانب انسانی جانوں کے اتلاف کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ کبھی فوجیوں کی جانیں تلف ہو رہی ہیں تو کبھی معصوم اور بے گناہ عام شہریوں کی ہلاکتیں پیش آ رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سرحد پار سے ہندوستانی ٹھکانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے ہندوستانی افواج کو جوابی کارروائی کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ کبھی کسی ٹھکانے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی کسی دوسرے سرحدی پوسٹ پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ کبھی جموں میں کوئی کارروائی ہوتی ہے تو کبھی کسی دوسرے ضلع کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ غرض یہ کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیںاور اس میں انسانی جانوں کا بے دریغ اتلاف ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں جو پہلے ہی سے سرد مہری اور کشیدگی تھی اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے ہونے والی اس بلا اشتعال فائرنگ کی وجہ سے ہندوستانی سکیوریٹی دستوں کو جوابی کارروائی پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان یہ اشتعال انگیزی بلا وجہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے حکومت پاکستان کو داخلی محاذ پر عوام کی تنقیدوں سے بچنے میں مدد مل رہی ہو یا پھر حکومت کو عوام کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے میں مدد مل رہی ہو لیکن اس کیلئے ہندوستان جیسے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرنا اور کشیدگی میں اضافہ کرنا عقل مندی نہیں ہے ۔ پاکستان کو اس طرح کی کوششوں اور ہتھکنڈوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ در اصل ہندوستان کے خلاف چھیڑی گئی بالواسطہ جنگ ہے اور اس کے نتائج کسی کیلئے بھی اچھے یا ثمر آور نہیں ہوسکتے ۔ پاکستان کو یہ حقیقت قبول کرنی چاہئے کہ ہندوستان کے ساتھ بہتر پڑوسیوں جیسے تعلقات استوار کرکے ہی پاکستان فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور خود اپنے ملک کی ترقی میں بھی ہندوستان سے مدد لے سکتا ہے ۔ بہتر پڑوسیوں جیسے تعلقات استوار کرنے کیلئے پہل کی اور حالات کو قابل بھروسہ بنانے کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد ہوتی ہے ۔ پاکستان کو اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
لائین آف کنٹرول پر حالات کو دگرگوں ہونے سے بچانے کیلئے باہمی رابطوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سب سے پہلے تو پاکستان کو ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بلا اشتعال کارراوئیوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسے چاہئے کہ وہ تشدد اور بالواسطہ لڑائی کو فروغ دینے کی بجائے حالات کو قابو میں کرنے اور ہندوستان کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے اقدامات کرنے پر توجہ دے ۔ دونوں ملکوں کے مابین سرحد کے راستے تجارت کو فروغ دینے کی کوششوں کا آغاز ہوا تھا ۔ پاکستان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کوشش کو مزید آگے بڑھانے کیلئے اقدامات کرے ۔ سرحد پر معمولی چھیڑ چھاڑ کبھی کبھار کسی بڑے تنازعہ اور ٹکراؤ کی صورت بھی اختیار کرلیتی ہے اور اگر ہندوستان و پاکستان کے مابین خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو یہ خود پاکستان کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اس کی قیمت پاکستان کو چکانی پڑسکتی ہے ۔ پاکستان بعض عناصر کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوششوں میں جٹا ہوا ہے لیکن اس کی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔ اسے اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کرنے کی ضرورت ہے ۔ سرحدات پر امن قائم ہوتا ہے تب ہی دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے بہتر ہونے کی امید ترک کردینی چاہئے ۔ اس سلسلہ میں ہندوستان اپنے موقف کو ایک سے زائد مرتبہ بہت ہی واضح انداز میں پیش کرچکا ہے ۔
سرحدات کی کشیدگی نہ ہندوستان کیلئے اچھی ہے اور نہ پاکستان کیلئے ۔ ہندوستان یہ بات بخوبی سمجھتا ہے لیکن مسئلہ پاکستان کا ہے جس کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ایسی صورت میں ہندوستانی سکیوریٹی افواج انتہائی صبر و تحمل سے کام لینے کے باوجود پاکستان کی بلا اشتعال فائرنگ کا جواب دینے کیلئے مجبور ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین سرحدات پر امن جب تک قائم نہیں ہوتا اس وقت تک کسی اور محاذ پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکتی ۔ نہ تجارتی تعلقات کو استحکام مل سکتا ہے اور نہ باہمی تجارت کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کیلئے ہندوستان ایک معاون اور مدد گار پڑوسی بن سکتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تائید کا سلسلہ بند کردے اور سرحدات پر امن قائم کرنے کیلئے پوری سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرے ۔ ایسا کرنا سارے جنوبی ایشیائی خطے کے مفاد میں بھی ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT