Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / سرحد پار سے دراندازی، کشمیر میں سنگباری اور پلیٹ گن کا استعمال

سرحد پار سے دراندازی، کشمیر میں سنگباری اور پلیٹ گن کا استعمال

(سال 2016 میں امن قانون کی پیچیدہ صورتحال)

نکسلائٹس کی خودسپردگی، تحفظات کیلئے پرتشدد احتجاج، سیاسی بحران میں عدلیہ کی مداخلت

نئی دہلی، 23 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور اس سے منسلک پتھراؤ کے واقعات مرکزی وزارت داخلہ کے لئے اس سال سب سے بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے ، جن سے نمٹنے کے لئے حکومت کو سخت مشقت کرنی پڑی۔ اچھی خاصی تعداد میں ماؤنوازوں کے خودسپردگی کرنے کے باوجود نکسلزم اور انتہا پسندی کا مسئلہ بھی اس سال ملک کے داخلی سلامتی کے محاذ پر چیلنج بنی رہی ۔ اسی سال وزارت داخلہ کو گنگا رام ہنس راج اھیر کے طور پر نیا وزیر ملا۔اس سال دو ریاستوں اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کیاگیا اور دو ریاستوں آسام اور پنجاب میں نئے گورنر مقرر کئے گئے۔ انڈین پولیس سروس کی ریٹائرڈ افسر کرن بیدی کو پدوچیری کا نائب گورنر بنایا گیا۔وزارت داخلہ کو اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ کے سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ اس سال ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کی وجہ سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا، کشمیر میں مظاہرین کے پتھراؤ، دہشت گردانہ حملے ، پڑوسی ممالک سے دراندازی، سرینگر واقع قومی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طلبہ کے درمیان تصادم ، متنازعہ حالات میں اسکولوں میں آتش زدگی کے واقعات، اڑي دہشت گردانہ حملے کے بعد سرحد پر کشیدگی بڑھنے کے پیش نظر سرحدی دیہات کو خالی کرانے اور منی پور میں اقتصادی ناکہ بندی جیسے واقعات سے بھی دو چار ہونا پڑا۔ آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے جنگجو برہان وانی کے سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے جانے کے بعد تقریباً تین مہینوں تک چلے احتجاجی مظاہروں نے مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کے لئے مصیبتیں کھڑی کر دیں اور اس دوران سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہوئے تصادموں میں 80 سے زائد افراد مارے گئے اور 10 ہزار سویلین اور سیکورٹی فورس کے تقریباً چار ہزار جوان زخمی ہوئے۔ برہان وانی کی موت سے نوجوانوں میں پیدا ہوئے اشتعال نے دہشت گردی سے متاثر ریاست میں پہلے تحریک اور پھر پتھراؤ کی وجہ سے تشدد کی شکل اختیار کر لی۔ مظاہرین سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال سے بڑی تعداد میں لوگوں کے شدید زخمی ہونے پر سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ ہنگامہ ہوااور اس کی گونج سڑکوں سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔اسی درمیان 18 ستمبر کو اڑي سیکٹر میں فوج کے کیمپ پر دہشت گردانہ حملے میں 19 جوانوں کی شہادت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا۔ اس سے ملک میں پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں کو سخت سبق سکھانے کا ماحول بن گیا۔ وزیر داخلہ نے اس کے پیش نظر امریکہ اور روس کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا۔ اس کے بعد فوج نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کارروائی کی جس سے سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی۔حکومت نے سرحد پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھا دی، اہم اداروں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی اور تقریباًچار لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ کانگریس کی حکومت والے اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں سیاسی بحران کے پیش نظر بالترتیب جنوری اور مارچ میں صدر راج نافذ کیاگیا لیکن ان دونوں ہی ریاستوں میں حکومت کو منہ کی کھانی پڑی اور عدالت کے فیصلوں کے بعد کانگریس حکومتوں کی بحالی ہوئی۔ شمال مشرق میں اس سال کم و بیش امن رہا اور این ایس سی این کے رہنما ایساک سوو کی موت کے بعد سے باغی تنظیموں کی سرگرمیوں میں نرمی دیکھی گئی اگرچہ منی پور میں گزشتہ ایک ماہ سے بھی زیادہ وقت سے باغی تنظیموں کی طرف سے کی جا رہی اقتصادی ناکہ بندی سے نمٹنے کے لئے بھی مرکزی وزارت داخلہ کو زور لگانا پڑ رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT