Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / سرحد پر پاکستان کی شلباری ، 2 جوان ، ایک خاتون ہلاک

سرحد پر پاکستان کی شلباری ، 2 جوان ، ایک خاتون ہلاک

سرینگر / جموں ۔ 3 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پاکستان کی فوج کی جانب سے جموں و کشمیر میں مواضعات اور سیکوریٹی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی فائرنگ اور شلباری میں ہندوستانی فوج کے دو سپاہی اور ایک خاتون ہلاک ہوئے اس علاقہ میں فائرنگ اور شلباری جاری ہے ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اظہار افسوس کیا کہ پاکستان مسلسل ہندوستان کے سرحدی ع

سرینگر / جموں ۔ 3 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پاکستان کی فوج کی جانب سے جموں و کشمیر میں مواضعات اور سیکوریٹی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی فائرنگ اور شلباری میں ہندوستانی فوج کے دو سپاہی اور ایک خاتون ہلاک ہوئے اس علاقہ میں فائرنگ اور شلباری جاری ہے ۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اظہار افسوس کیا کہ پاکستان مسلسل ہندوستان کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنارہا ہے ۔ دوستی کا دست دراز کرنے کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ۔ پاکستان کی کارروائی سے دو ہندوستانی سپاہی ہلاک اور دیگر ایک زخمی ہوا ہے ۔ پاکستانی دستوں نے جمعہ کی رات ایل او سی کے پاس کنہیا چوکی کے قریب فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تنگدھار علاقہ میں راکٹ کے ذریعہ گرینیڈس فائر کئے، پولیس عہدیدار نے آرمی کے داخل کردہ ایف آئی آر کے حوالے سے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی دستوں کی حرکت سے 2 فوجی جوانوں کی موت ہوگئی اور ایک دیگر زخمی ہوگیا۔ ایک بی ایس ایف جوان جسے اس فورس کی ایک قریبی چوکیوں پر متعین کیا گیا تھا، وہ اس واقعہ میں زخمی ہوا ہے۔

بین الاقوامی سرحد کے پاس پاکستانی دستوں نے کئی دیہاتوں اور 13 سرحدی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر پیدا کردی ہے اور وہ نقل مقام کررہے ہیں۔ دہشت گردی ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ہند۔ پاک سرحدی علاقوں میں پھر لوٹ آئی ہے جہاں گزشتہ بارہ گھنٹوں سے پاکستان رینجرز کی جانب سے بھاری مورٹار شل باری نے متاثرہ سرحدی دیہاتوں سے نقل مقام کا سلسلہ چھیڑ دیا ہے۔ ’’ہم ہمارے گھر چھوڑ کر جارہے ہیں اور کل رات سے پاکستان کی سمت سے شل باری کی آوازیں سن رہے ہیں۔ ہم کیمپوں میں پناہ لینے جارہے ہیں۔ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران فائرنگ میں کوئی تخفیف نہیں ہوئی ہے،‘‘ ضلع سامبا میں بینگلار علاقہ کی نمریتا دیوی نے یہ بات کہی۔ آج ہفتہ کو ایک خاتون ہلاک ہوگئی اور آٹھ دیگر شہری زخمی ہوئے جبکہ پاکستانی دستوں نے اس سرحدی ریاست میں اضلاع کٹھوا اور سامبا میں بھاری مورٹار شل باری کے ذریعہ دیہاتوں اور 13 سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ سیزفائر کی تازہ خلاف ورزیوں نے سرحدی دیہاتوں سے نقل مقام کا سلسلہ چھیڑ دیا ہے

اور زائد از 1000 افراد کا اضلاع کٹھوا اور سامبا کے گاوؤں سے تخلیہ کرا دیا گیا ہے، عہدیداروں نے یہ بات کہی۔ پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے تازہ دور میں جو سالِ نو کے موقع پر شروع ہوا، دو افراد بشمول ایک بی ایس ایف جوان کی موت ہوچکی ہے، اور دیگر نو لوگ زخمی ہوئے جبکہ ہندوستان کی جانب سے جوابی فائرنگ میں پانچ پاکستانی رینجرز ہلاک ہوگئے۔ یہ تبدیلی محض دو ماہ بعد سامنے آئی ہے جبکہ آخری بڑی کشیدگی میں 13 جانیں گئی تھیں اور 32,000 سرحدی مکینوں کو منتقل کرنا پڑا تھا۔ ’’ہم پاکستانی بندوقوں کیلئے سرحد پر آسان نشانہ بن چکے ہیں۔ ہم مسلسل خوف و دہشت کے سائے میں جی رہے ہیں۔ جب ہم کھیتوں کو جاتے ہیں یا راستوں پر چلتے ہیں تو ہم نہیں جانتے کہ ہم کب اُن کی گولیوں کا شکار ہوجائیں گے،‘‘ یہ الفاظ اروند کمارا کے ہیں جو یہاں مانگو چاک علاقہ کا دکاندار ہے۔ مایوس لوگوں کو طویل قطاروں میں بیل بنڈیوں، ٹرکوں، ٹمپو گاڑیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں ان سرحدی گاوؤں سے روانہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT