Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / سرحد پر ہلاکتوں کے نام پر ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے ؟

سرحد پر ہلاکتوں کے نام پر ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے ؟

 

کیا سکھ گرنتھی ایک ہندو امیدوار کیلئے اپیل کرسکتا ہے ، سپریم کورٹ بنچ کے سوالات

نئی دہلی ۔ /20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج یہ سوال کیا کہ کوئی شخص سرحد پر ہلاکتوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مخصوص پارٹی کیلئے ووٹ طلب کرسکتا ہے ؟ عدالت نے ’’ہندوتوا‘‘ پر دو دہے قدیم فیصلے کی دوبارہ سماعت کے دوران آج کئی سوالات اٹھائے ۔ عوامی نمائندگان ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت ’’قومی علامتوں‘‘ اور ’’قومی نشان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیرقیادت 7 ججس پر مشتمل دستوری بنچ نے کہا کہ کسی بھی شخص کو انتخابات میں ان کا استعمال کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ بنچ نے کہا کہ قومی پرچم اور قومی نشان کی بنیاد پر کیا کوئی ووٹ حاصل کرسکتا ہے ۔ اسی طرح یہ کہتے ہوئے کہ لوگ سرحدوں پر مررہے ہیں لہذا مخصوص جماعت کیلئے ووٹ طلب کرسکتا ہے ۔ کیا اس کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے کہا کہ قانون میں اس کی واضح طور پر صراحت  کی گئی ہے ۔ سماعت کے دوران بنچ نے یہ احساس ظاہر کیا کہ پارلیمنٹ نے ’’بدعنوان طریقوں‘‘ کی اصطلاح کو کافی وسعت دی ہے ۔ اس کے ذریعہ انتخابات کے دوران علحدگی پسند اور فرقہ پرستانہ رجحان سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا کوئی ’’سکھ گرنتھی‘‘ مخصوص ہندو امیدوار کیلئے ووٹ طلب کرسکتا ہے ۔ کیا اس اپیل کو غلط سمجھا نہیں جائے گا ۔ کیا اسے مخصوص قانون کے تحت بدعنوان طریقہ کار تصور نہیں کیا جائے گا ۔ شیام دیوان نے اس کے جواب میں کہا کہ آر پی ایکٹ کی مخصوص دفعہ کے تحت اسے بدعنوان طریقہ کار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی گنجائش میں جو ’’مذہب‘‘ کی صراحت کی جاتی ہے اس کا مطلب امیدوار کا مذہب ہوتا ہے ۔ اس سے مراد وہ مذہبی رہنما کا مذہب نہیں ہوتا جو ووٹ کی اپیل کررہا ہے ۔ عدالت آر پی ایکٹ کی دفعہ 123(3) کے حدود کا جائزہ لے رہی ہے ۔ یہ دفعہ انتخابی بے قاعدگیوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس دوران تین سماجی کارکنوں تیستا سیتلواد ، شمس الاسلام اور دلیپ منڈل نے درخواست داخل کرتے ہوئے جاریہ سماعت کے دوران مداخلت کی خواہش کی ۔

تاکہ مذہب کو سیاست سے غیرمربوط کیا جائے ۔ یہ مسئلہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 1995 ء میں سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ہندوتوا / ہندو ازم کے نام پر ووٹ سے کسی امیدوار پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ ہندوتوا ذیلی براعظم میں عوام کے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے ، یہ ایک ذہنی فکر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT