Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / سرخ صندل کی اسمگلنگ میں ملوث دو پولیس عہدیدار معطل

سرخ صندل کی اسمگلنگ میں ملوث دو پولیس عہدیدار معطل

عہدیداروں کے خلاف شواہد پر حکومت آندھرا پردیش کی کارروائی

عہدیداروں کے خلاف شواہد پر حکومت آندھرا پردیش کی کارروائی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ ستمبر : ( پی ٹی آئی ) : حکومت آندھرا پردیش نے سرخ صندل کی اسمگلنگ میں ان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے پر دو پولیس عہدیداروں کو معطل کردیا ۔ ان دو عہدیداروں جی ادے کمار ، اس وقت کے او ایس ڈی ، ٹاسک فورس ( سرخ صندل ، تروپتی ) اور جی وی رمنا ، سب ڈیویژنل پولیس آفیسر راجم پیٹ ، ضلع کڑپہ کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں بشمول سرخ صندل کی اسمگلنگ میں ان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے کافی شواہد ہیں ۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے دفتر نے یہ بات بتائی ۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ان شواہد سے سرخ صندل کے اسمگلرس اور عہدیداروں کے درمیان مبینہ ساز باز ظاہر ہوتا ہے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عہدیدار مبینہ طور پر کریمنل کیسیس میں ملوث افراد سے رشوت حاصل کررہے ہیں۔ ادے کمار ، فی الوقت ڈی ایس پی ، سی آئی ڈی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ادے کمار نے ان کے دور میں مبینہ طور پر ہر ماہ سرخ صندل کی لکڑی کی اسمگلنگ کرنے والوں سے بھاری رشوت وصول کرتے تھے ۔ سرخ صندل کی لکڑی کے یہ اسمگلرس پڑوسی ریاستوں اور دیگر رائلسیما ڈسٹرکٹس سے آتے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس ان کی جانب سے کریمنل چارجس میں ملوث افراد سے مبینہ طور پر رشوت حاصل کرنے کا بھی ثبوت ہے اور انہوں نے بغیر کسی چیکس کے سرخ صندل کے اسمگلروں کو آسان راستہ فراہم کیا ۔ ریاستی حکومت سرخ صندل کی اسمگلنگ کا تدارک کرنے کے اقدامات کررہی ہے اور اس میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے خاطی پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT