Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / سردار پٹیل کی یوم پیدائش پر ان کی وراثت پر بی جے پی اور کانگریس میں تکرار

سردار پٹیل کی یوم پیدائش پر ان کی وراثت پر بی جے پی اور کانگریس میں تکرار

بی جے پی پر تاریخ دوبارہ تحریر کرنے اور تنگ نظر حب الوطنی کے بہانے ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کا الزام
نئی دہلی ۔ 31 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور کانگریس میں سردار پٹیل کی وراثت کے سلسلہ میں تکرار میں شدت پیدا ہوگئی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملک کے آزادی کے بعد اتحاد کی شرائط کی اہمیت کم کرنے بلکہ اسے ختم کردینے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس نے جوابی وار کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس پر پٹیل کو بھگوا پارٹی سے تعلق کے ذریعہ نامناسب انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھگوا پارٹی نے جدوجہد آزادی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ کانگریس نے یاد دہانی کی کہ پٹیل نے مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر امتناع عائد کردیا تھا۔ کانگریس جس پر بی جے پی پٹیل کی کارکردگی کو فراموش کردینے کا الزام عائد کررہی ہے، کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یادگار منانے کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ان کی کارکردگی کی جانچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ کانگریس کے ترجمان وڑکن نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس قائدین کی تقریریں زہریلی ہیں اور کسی زہرکی وجہ سے مہاتما گاندھی کا قتل ہوا تھا۔ ٹام وڑکن نے الزام عائد کیا کہ کانگریس قائدین کو بی جے پی کی جانب سے اپنالینے سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ بی جے پی تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی جانب سے پٹیل کو بھارت رتن ایوارڈ دینے میں تاخیر کا کانگریس پر الزام عائد کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ سردار پٹیل ایک کانگریسی کی حیثیت سے لوگوں کے دل پر حکومت کرتے ہیں۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے پٹنہ میں کہا کہ اگر سردار پٹیل کو ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بنایا جاتا تو شاید ہندوستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہا کہ ملک تنگ نظر قوم پرستی کے نام پر ظلمت کی طاقتوں کے ہاتھوں دن بہ دن تقسیم کیا جارہا ہے۔ سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کو مسترد کیا جارہا ہے اور ان کی توہین کی جارہی ہے حالانکہ ہندوستان کی روایت رواداری ہے لیکن آج کے دور میں ہمارے وطن کو قوم پرستی کے بہانے تقسیم کیا جارہا ہے۔

رواداری ختم ہوتی جارہی ہے۔ ان کی تقریر نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے ایک تقریر میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اندرا گاندھی نے کسی کی بھی جانچ اس کے مذہب کی بنیاد پر نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپنے سکھ باڈی گارڈس کو نہیں ہٹایا تھا حالانکہ انہیں آپریشن بلو اسٹار کے پس منظر میں اس کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اندرا گاندھی نے امید ظاہر کی تھی کہ اس وقت کے وزیرخارجہ کرشنا قومی یکجہتی اور رواداری کی مشعل جلائے رکھیں گے۔ صدر کانگریس نے کہا کہ اندرا گاندھی کی زندگی اور کارناموں کی وجہ سے ایک ایوارڈ کے قیام کی تحریک حاصل ہوئی۔ ہندوستان کے نامور بیٹوں اور بیٹیوں نے اپنی ستائش سے اوپر اٹھ کر ملک کے تحفظ اور ہندوستان کے جذبہ اور روح کے تحفظ کیلئے کام کیا۔ انہوں نے کہاکہ اتحاد اور امن قابل تقسیم اور تنازعہ کی وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایوارڈ حاصل کرنے والوں کیلئے مشعل راہ ہیں جس سے ان کے قول و عمل کی رہنمائی ہوتی ہے۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی مختصر تقریر میں ان اقدار سے وابستگی کا دوبارہ عہد کرنے کا مشورہ دیا جن کی سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی علمبردار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہندوستان کی تکثیریت اور تنوع کو خراج تحسین ادا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج کو گہری تقسیم کے خطرہ کا سامنا ہے۔ حقیقی حب الوطنی کا تقاضہ ہیکہ ہم اندرا گاندھی بتائے ہوئے راستہ پر چلتے رہیں۔

TOPPOPULARRECENT