Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرزمین حیدرآباد علم و ادب و زبان کا گہوارہ

سرزمین حیدرآباد علم و ادب و زبان کا گہوارہ

دکنی اور اردو کی دنیا بھر میں پروان، ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب کا خطاب
حیدرآباد ۔ 7 جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد کی سرزمین ازل سے علم و ادب و زبان کا گہوارہ ہے۔ دکن کی ابتداء سے یہاں اس لئے جواہر پارے پیدا ہوئے جنہوں نے دکنی زبان ہی نہیں اردو زبان کو دنیا بھر میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے یہ زبان بڑی تیزی سے دیگر ملکوں میں اپنا نام پیدا کرکے شیرینی کو چھوڑا ہے۔ دکنی زبان کی شیرینی سے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو متاثر تھے اور پسند کیا، لطف اندوز بھی ہوئے۔ ملک میں ریاستوں کے تھوڑے سے فاصلہ ہی کی وجہ سے زبانوں میں تیزی سے بدلاؤ پیدا ہوا ہے۔ اردو زبان ایک ایسے وقت اپنی شناخت حیدرآباد میں بنائی جبکہ وہ دہلی اور لکھنؤ میں جانی نہیں جاتی تھی یہی وجہ کہ حیدرآباد میں بے شمار ادیب، فنکار، شعراء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی منفرد شناخت و پہچان بنائی لیکن زوال حیدرآباد کی وجہ سے دکن میں جنہوں نے اردو زبان کی خدمت کی وہ منظرعام پر آ نہ سکے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب (لندن)  ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور (ڈاکٹر زور) میموریل لکچر سے کیا جو لائق علی خان ہال، سالارجنگ میوزیم میں بعنوان ’’حیدرآباد دبستان در دبستان‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔ جناب سید تراب الحسن پنجتن نے صدارت کی۔ اس موقع پر ان کے ہاتھوں ’’افادات زور جلد چہارم ’’شخصیات‘‘ کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ جناب غلام یزدانی ایڈوکیٹ نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔ پروفیسر مجید بیدار نے کہا کہ ڈاکٹر زور نے نہ صرف تحقیقی بلکہ افسانوں کو بڑھاوا د یا یہی وجہ ہیکہ ان کے تین مجموعہ شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب افادات زور جلد چہارم پر شخصیات نے تبصرہ کرتے ہوئے بڑے  مؤثر انداز میں لکھا جو 382 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہیکہ انہوں نے تحقیقی گلدستہ پیش کیا جس نے زبان و ادب میں خدمت کی ہے۔ ڈاکٹر زور کے لکھے ہوئے خطوط کو بھی نئی نسل سے متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ جناب سید امتیاز الدین نے ڈاکٹر زور کی شخصیت اور ان کے فن پر تبصرہ کیا۔ جناب سید رفیع الدین قادری نے اپنے والد ڈاکٹر زور کی قلمی کاوش کی سراہنا کی۔ اس موقع پر مہمانان کو عبدالقدس، ڈاکٹر فضل  اللہ مکرم، ڈاکٹر ناظم الدین، ڈاکٹر ابرار الدین و دیگر نے گلدستہ پیش کیا جبکہ اس لکچر میں آمنہ تراب الحسن، اشرف رفیع، نسیم الدین فریس، عبدالعزیز سہیل، ڈاکٹر سیادت علی، ڈاکٹر وہاب قیصر، ڈاکٹر مختار احمد فردین، محمودالحسن ہاشمی، ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کے علاوہ علم و ادب اور طلباء و اساتذہ و دیگر کی کثیر تعداد موجود تھی۔ محترمہ سارا متھیوز نے کارروائی چلائی۔ جناب سید وقارالدین قادری نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT