Wednesday , June 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / سرسبزتلنگانہ کیلئے درختوں کی حفاظت ناگزیر

سرسبزتلنگانہ کیلئے درختوں کی حفاظت ناگزیر

کلواکرتی۔6جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہر کلواکرتی میں عالمی یوم شجرکاری کے موقع پر یہاں کی عدالت منصفی میں شجرکاری کا پروگرام منعقد کیا گیا جس کے اصل محرک جونیئر سیول جج ہری کشن لال ہے جس کی تمام شرکاء نے زبردست ستائش کی اور ایسے پروگرام پر ایک مقام گاؤں شہروں میں منعقد کرنے کی اپیل کی جس میں بطور قاضی کمشنر بلدیہ محمد صابر علی نے کہاکہ

کلواکرتی۔6جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہر کلواکرتی میں عالمی یوم شجرکاری کے موقع پر یہاں کی عدالت منصفی میں شجرکاری کا پروگرام منعقد کیا گیا جس کے اصل محرک جونیئر سیول جج ہری کشن لال ہے جس کی تمام شرکاء نے زبردست ستائش کی اور ایسے پروگرام پر ایک مقام گاؤں شہروں میں منعقد کرنے کی اپیل کی جس میں بطور قاضی کمشنر بلدیہ محمد صابر علی نے کہاکہ درختوں کی افزائش اور پالیتھن کاورس سے انسان کی صحت کی ضامن ہے ۔ بلدیہ کلواکرتی شروع ہی سے اس جانب عوام کو بار بار متوجہ کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہیں گے ۔ اس کا فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب عوام اس کو قبول کریں گے اور بلدیہ کا ساتھ دیں گے ‘ اس کے بعد ایم ایل اے کلواکرتی ومشی چندرا ریڈی نے بتایا ہ پہلے لوگوں کی صحت اور آج کل کے لوگوں کی صحت میں واضح فرق صرف اور صرف درختوں کی تر و تازہ ہوا سے ہی فرق ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ درختوں کی کٹوائی کی وجہ ہی ہے کہ زیر زمین پانی 500‘600فٹ کی کھدوائی پر بھی دستیاب نہیں ہورہا ہے اگر ایسا ہی رہا تو آنے والی نسل کو پانی حاصل کرنے کیلئے 2تا 3ہزار فٹ تک کھدوائی کرنے پڑے گی ‘ ہم لوگ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی تباہ و برباد درختوں کو کاٹ کر کررہے ہیں ۔ عوام کو چاہیئے کہ درختوں کی حفاظت کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگوائیں تاکہ ہماری یہ نئی ریاست تلنگانہ گرین ریاست بن بجائے ۔ فرسٹ کلاس جج محترمہ پدماوتی نے بتایا کہ یوم شجرکاری 1973ء سے ایک خانگی تنظیم نے ایک درخت لگاکر شروع کی تھی جو کہ یہ تحریک آج عالمی تحریک میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ لہذا ہر ایک انسان کو ایک درخت اپنی زندگی میں ضرور لگانا چاہیئے ‘ہم تو چلے جائیں گے لیکن ہماری یہ درخت کئی انسانوں کے کام آئے گا ‘ پہلے تو اس سے انسان بہترین آکسیجن حاصل کرے گا پھر اسکے بعد اس کا پھل اسعتمال کرتے ہوئے صحت مند رہے گا پھر اس کے بعد اپنی ضروریات اُس سے پوری کرے گا لہذا ایک ہاتھ ایک درخت پر ہم سب کو عمل کرنا چاہیئے ۔ جونیئر سیول جج ہری کشن لال نے بہت ہی بڑے عام فھم انداز میں نوجوانوں کو اس جانب خصوصی توجہ دلائی اور کہا کہ آپ کے بڑے یہ لگائے تو ہمارا یہ حال ہے اب اگر ہم درخت نہیں لگوائیں تو ہمارے آنے والے بچوں کا کیا حال ہوگا ‘ اس پر توجہ دیں ۔ درخت نہ رہنے اور بار بار ریت کی ناجائز منتقلی سے ہمارے آبی ذحائر پوری طرح سوکھ جارہے ہیں ۔ آج پانی کی کتنی تکلیف برداشت کرنی پررہی ہے ‘ تو سوچو ایسا میں آنے والے دنوں میںکیا کچھ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آج دواخانوں میں آکسیجن لگانے کیلئے ایک انسان سے یومیہ 8000 روپئے وصول کئے جاتے ہیں جس کے حساب سے ماہانہ دو لاکھ 40ہزار روپئے ۔ لیکن آج ہم بالکل مفت ان درختوں کی وجہ سے بغیر کسی خرچ کے صحت مند زندگی گذار رہے ہیں ۔ درخت سے انسان کی زندگی ہے اور درخت نہ ہو تو انسان کی موت ۔ اس موقع ایم ایل اے نے چار منڈلوں کے ایس آئی کو حکم دیا کہ درخت کی کٹوائی اور ریت کی منتقلی پر سخت کارروائی کریں اور اس جانب خصوصی توجہ دیں۔

TOPPOPULARRECENT