Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / سرسید : تقلید سے تجدید تک

سرسید : تقلید سے تجدید تک

پروفیسر اختر الواسع
وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور ( راجستھان )
سرسید : تقلید سے تجدید تک
اٹھارہویں اور انیسویں صدی برصغیر ہند کے مسلمانوں کے لیے بڑی متضاد کیفیات کی حامل رہی ہیں ۔ ان دو صدیوں میں مسلم حکومت زوال اور شکست و ریخت کا شکار ہوئی ۔ مسلمانوں کی سیاسی جمعیت رفتہ رفتہ پارہ پارہ ہوگئی اور مغل شہنشاہیت جس کو علامہ اقبال نے بجا طور پر ترکان عثمانی کی خلافت کے ہم پلہ قرار دیا تھا ، ختم ہوگئی ۔ انہی دو صدیوں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ برصغیر کے زیادہ تر مسلم دانشور اور علماء و فضلا ان دو صدیوں میں ہی پیدا ہوئے ۔سرسید احمد خاں 19 ویں صدی کی وہ نادر روزگار ہستی ہیں جن پر ملک و قوم کو بجا طور پر فخر ہے ۔ انہوں نے مختلف پہلوؤں سے ملک و قوم کی خدمت کی اور وہ خود اپنی ذات میں بھی مختلف اور متنوع خوبیوں اور صفات کے حامل تھے ۔ سرسید احمد خاں کی ولادت ایک اعلیٰ خاندان میں ہوئی جس کے پاس دنیاوی وجاہت اور علمی سیادت نیز راہ سلوک کی قیادت کا اجتماع تھا ۔ ان کے والد اکبر شاہ ثانی کے بڑے معتمد تھے اور ان کے نانا خواجہ فرید الدین ایک عرصہ تک وزیر رہے ، ان کے نانا کے بھائی شاہ فدا حسین سلسلہ رسول شاہی کے گدی نشین تھے ۔ خواجہ فرید الدین کا تعلق لکھنو کے نواب تفضل حسین خاں سے بھی تھا ۔ سرسید احمد خاں نے دہلی کے کئی اساتذہ سے تعلیم و تربیت حاصل کی اور اس کے بعد مولوی سمیع اللہ کے چچا مولوی برکت اللہ سے عدالتی اور قانونی تربیت حاصل کر کے حکومت برطانیہ کی ملازمت اختیار کرلی ۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ سرسید نے تصنیفی و تالیفی ذوق کی تشنگی کا سامان بھی بہم پہنچائے رکھا ۔ ان کے بڑے بھائی سید محمد ایک پریس کے مالک تھے اس لیے سرسید کی اس تصنیفی تشنہ لبی کی سیرابی کا سامان بھی موجود تھا ۔ ابتداء انہوں نے خالص روایتی انداز کی چیزیں لکھیں جن میں حرکت زمین سے متعلق ان کا رسالہ بھی شامل ہے ۔ لیکن جلد ہی ان کا ذوق تجسس ان کو تعمیری اور تاریخی انداز کے کاموں کی طرف لے گیا انہوں نے دہلی کی عمارتوں کا مطالعہ کیا اور اس دور کی دہلی کی شخصیات پر مشتمل ایک کتاب لکھنی شروع کی۔ 1848 ء میں کتاب مکمل ہو کر شائع ہوئی تو اس کو ہندوستان اور بیرون ہند کے علمی حلقوں میں یکساں پذیرائی ملی ۔ اسی عہد میں گارساں دتاسی نے اس کا فرانسیسی ترجمہ بھی کیا ۔ سرسید نے سیرت کے مطالعہ کے لیے بنیادی مراجع کا مطالعہ کیا تو اس کے ساتھ اسلامی میراث خاص طور پر قرون اولی کی علمی و فکری روایت کا بھی براہ راست مطالعہ کیا اور انہوں نے قرون اولی کے علمی و ادبی کارناموں کو اردو زبان میں نہایت خوبی کے ساتھ پیش کیا ۔ فلسفیانہ مباحث خاص طور پر اخوان الصفا اور معتزلہ کی فکری روایت جس کے لیے اردو زبان اپنی وسعت کے باوجود ناکافی تھی ، سرسید نے ان کو نہایت خوبی اور سہل انداز میں اردو زبان میں پیش کیا ۔ مشہور مستشرق اور رشدیات کے ماہر رینان نے لکھا ہے کہ عربی زبان فلسفہ کی متحمل نہیں ہوسکتی اس لیے مسلم فلاسفہ آزادی کے ساتھ اپنے افکار کا اظہار نہ کرسکے ۔ علامہ شبلی نے اس پر حاشیہ لکھا ہے کہ رینان کو غلط فہمی ہوئی ۔ سرسید احمد خاں نے تو فلسفیانہ مباحث کو اردو زبان میں نہایت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ عربی تو اردو سے بہت زیادہ وسیع زبان ہے ۔ سرسید احمد خاں کا ایک بڑا علمی کارنامہ ان کی تفسیر قرآن ہے سرسید کی تفسیر بہت متنازعہ فیہ رہی ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس میں سرسید نے متعدد اجتہادی غلطیاں کی ہیں لیکن ان اجتہادی غلطیوں اور خاص طور پر غیبی امور کی ناقابل قبول عقلی توجیہہ کے باوجود وہ ایک اہم تفسیر ہے اور بعد کے لوگوں پر اس کے خاصے اثرات نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے قوم کو اس کی شاندار علمی میراث یاد دلائی اور قوم کو پیغام دیا کہ وہ آپ کے اسلاف تھے جنہوں نے تہذیب و تمدن میں ساری دنیا کی امامت کی آج آپ بھی کرسکتے ہیں لیکن محنت شرط ہے ۔ سرسید نے کوئی فرضی طریقہ نہیں بتایا بلکہ ایک عملی راہ متعین کی کہ اس راہ پر چل کر آج آپ پھر امامت و سیادت کے اسی منصب عالی پر فائز ہوسکتے ہیں ۔ جس پر کبھی آپ کے اجداد فائز تھے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف تعلیم وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ قوم ترقی کے مدارج طے کرسکتی ہے لیکن ایسی تعلیم جو مذہب سے آراستہ ہو ۔ نہ بنا تعلیم کے ترقی ہے اور نہ ہی مذہب کو چھوڑ کر کوئی راہ عظمت ہے ۔ اس لیے مولانا حالی نے ان کے مرثیے میں لکھا ہے کہ آدمی قطب زماں ہوسکتا ہے ، غوث و ابدال ہوسکتا ہے پیر کامل ہوسکتا ہے لیکن سرسید احمد خاں بننا انتہائی مشکل ہے جس کے شب و روز جس کی متاع حیات قوم ہو جو قوم کے غم میں مسلسل پگھلتی ہوئی شمع ہوں اور سرسید کے اسی جذب دروں اور عزم و حوصلہ نے وہ تاج محل تعمیر کیا ہے جس کو آج ہم علی گڑھ کہتے ہیں ہاں وہ علی گڑھ … دیوانوں کا دشت جنوں ، پروانوں کی بزم وفا ، رومانوں کا شہر طرب ، ارمانوں کی خلد بریں ، اسلام کا بت خانہ ، تہذیب کامے خانہ ، جہاں اصنام و آذر اور شمشیر و ساغر یکجا رہے ہیں ۔ لیکن اب یہ یکجائی اس وقت باقی رہ سکتی ہے اور وہاں کی ہر شام شام مصر اور ہر شب شب شیراز اسی وقت کہلائے گی وہاں کے ذرات کا بوسہ لینے کو آکاش جبھی سو بار جھکے گا اور باطل کی شکست فاش جبھی ہم وہاں اپنی آنکھوں سے بار بار دیکھ پائیں گے ۔ جب علی گڑھ والے سرسید کے نہج پر اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق منصوبے تیار کریں ۔ حکمت عملی بنائیں ۔ نہ صرف خواب دیکھیں بلکہ ان کو شرمندہ تعبیر بھی کریں ۔ اور پھر اس سعی فکر و عمل کی برق رفتاری کے سہارے خوشحالی ترقی ، فلاح و بہبود ، روشن خیالی اور خیر و صداقت کی وہ گھٹائیں اٹھیں گی جو ہمارے نخل امید اور برگ تمنا کے سرسبز و شاداب ہونے کی ضامن ہوں گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT