Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی شمولیت ،امریکہ کا خیرمقدم

سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی شمولیت ،امریکہ کا خیرمقدم

یکا و تنہا کردیئے جانے کا دور قریب الختم ، نیوکلیئر توانائی سے پاک بنانا امریکہ کی اولین ترجیح: پریس سکریٹری اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان

واشنگٹن۔10جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے جنوبی کوریا میں آئندہ ماہ منعقد شدنی سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی شرکت کا خیرمقدم کیاہے اور کہا کہ شمالی کوریا کیلئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ نیوکلیئر توانائی کے حامل ملک بننے کا خواب نہ دیکھے جس نے اُسے بین الاقوامی برادری میں یکا و تنہا کردیا ہے ۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا نے سرمائی اولمپکس میں اپنے اتھیلیٹس اور چیئر لیڈرس روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس طرح زائد از دو سال میں پہلی بار دونوں کوریاؤں کے عہدیداروں کے درمیان اس تعلق سے ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا جسے اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے پے در پے نیوکلئیر میزائلس کی ٹسٹنگ نے نہ صرف جنوبی کوریا کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ کردیئے تھے بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کی لفظی جھڑپ نے کافی طوالت اختیار کرلی تھی ۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے اپنی روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کو ایک اچھا موقع ہاتھ آیا ہے کیونکہ اگر کسی ملک کو بین الاقوامی سطح پر یکا و تنہا کردیا جائے تو اس کے کیا منفی اثرات ہوسکتے ہیں ‘ اس کا اندازہ صرف اُسی ملک کو ہوسکتا ہے جسے یکا و تنہا کیا گیا ہو ۔ اسے بین الاقوامی برادری کے ساتھ رہنے کی قدر کا احساس ہوتا ہے ۔ اگر شمالی کوریا نیوکلیئر توانائی سے پاک ملک بن جانے کی خواہش کرتا ہے تو اس کی اس خواہش کا احترام کیا جائے گا ۔ لہذا ہم اپنی جانب سے کوشش جاری رکھیں گے اور اس سے امریکی کھلاڑیوں کی سرمائی اولمپکس میں شرکت بالکل متاثر نہیں ہوگی ۔ سارہ سینڈرس نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ اس وقت کورین جزیرہ نما کو نیوکلئیر توانائی سے پاک رکھنا ہی ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے ۔ لہذا اس سلسلہ میں ہم اپنے جنوبی کوریائی حلیفوں سے مسلسل ربط میں ہیں اور ایک دوسرے کو ہونے والی گفتگو کے لب لباب سے کما حقہ واقف کروا رہے ہیں ۔ دوسری طرف اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے 9جنوری کو شمالی اور جنوبی کوریا کے عہدیداران کے اجلاس کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ امریکہ بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ جنوبی کوریا میں منعقد شدنی سرمائی اولمپکس بخیرخوبی منعقد کروائے جائیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ سرمائی اولمپک گیمس میں امریکہ بھی اپنا ایک اعلیٰ سطحی صدارتی وفد روانہ کرے گا ۔ اگر ہم گزرے ہوئے سال کا جائزہ لیں تو اسے ’’شمالی کوریا کا سال ‘‘ کہا جاسکتا ہے ‘ کیونکہ شمالی کوریا نے یکے بعد دیگرے نیوکلیئر میزائلس اور بین براعظمی بالسٹک میزائلس لانچ کرنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا تھا جس نے نہ صرف جنوبی کوریا بلکہ امریکہ کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT