Thursday , December 14 2017
Home / اداریہ / سرمائی سیشن میں تلخیاں

سرمائی سیشن میں تلخیاں

بہت سے ہیں ابھی طوفان اس میں
یہ دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا ہے
سرمائی سیشن میں تلخیاں
پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن صدر کانگریس سونیا گاندھی اور سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اعزاز میں وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے دی گئی ٹی پارٹی سے اس توقع کے ساتھ شروع ہوا تھا کہ گڈس اینڈ سرویس  ٹیکس بل (جی ایس ٹی) منظور کرالیا جائے گا تین مانسون سیشن برسراقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں کے مابین شدید تلخیوں اور مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے مستعفی ہونے کے مطالبہ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ حکومت نے اپوزیشن پر کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا جبکہ اپوزیشن کانگریس نے نیشنل ہیرالڈ کیس کے حوالہ سے برسراقتدار این ڈی اے پر انتقامی سیاست کا الزام لگایا ہے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو نے ریمارک کیا کہ سرمائی سیشن شروع ہونے سے قبل ہی اس کو مفلوج کرنے کی سازش رچی گئی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے مرکز پر زور زبردستی اور سرکشی کا رویہ اختیار کرنے کا بہتان لگایا۔ حکومت کا کہنا ہیکہ اپوزیشن نے ہر چھوٹے مسئلہ پر ایوان کی کارروائی روک دی لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ وزراء کے دلتوں کے خلاف ریمارکس پنجاب میں دلتوں پر زیادتیاں اور اروناچل پردیش میں دستور سے کھلواڑ بہت بڑے مسائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمائی سیشن شروع ہونے کے موقع پر حکومت کا اپوزیشن سے ربط اس کا دکھاوا تھا۔ حکومت نیک نیت نہیں تھی اپوزیشن کی فکرمندی پر برسراقتدار محاذ نے کوئی توجہ نہیں دی۔ کانگریس کا سارا غصہ اس بات پر لگا کہ پارٹی کے سرکردہ قائدین کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں دہلی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے عین سرمائی سیشن کے دوران طلب کرلیا تھا۔ سیشن کے دوران ہی سی بی آئی نے دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کے پرنسپال سکریٹری کے آفس پر دھاوا کیا۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی کارروائی بے روک ٹوک جاری رکھنے کی رہی سہی توقع بھی ختم ہوگئی۔ سیشن کے پہلے ہفتہ کے دوران برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں میں مفاہمت دیکھی گئی تھی اور ایوان میں دستور کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس طرح سیشن کے آخری دنوں میں باہمی تال میل کے ساتھ کمسن قیدیوں سے انصاف کا بل منظور کرلیا جو جمہوریت کے مستقبل کیلئے مثبت اشارہ ہے۔ سنجیدہ طبقہ نے لوک سبھا جیسے شوروغل کو بزرگوں کے ایوان ر اجیہ سبھا میں پسند کی نظر سے نہیں دیکھا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ اور صدرنشین راجیہ سبھا حامد انصاری نے اپنی پراثر شخصیت اور وسیع تجربہ کے ذریعہ تہذیب اور شائستگی کو برقرار رکھنے کی بسااوقات کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ بھی سرمائی سیشن کے آخری دنوں میں حامدانصاری کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے دونوں طرف جذبات ٹھنڈے ہوئے اور کمسن قیدیوں سے انصاف کا بل منظور کرلیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ لاکھ سیاسی اختلافات کے باوجود مفاہمت کی راہ نکل آئی ہے۔ اس کیلئے پریسائیڈنگ آفیسر کی سوجھ بوجھ کلیدی رول ادا کرتی ہے۔ دستور کے معماروں نے دستور کی تدوین کے وقت ہی یہ امر پیش نظر رکھا ہے کہ لوک سبھا میں عوام کے منتخب نمائندوں کے جذباتی فیصلوں کو بریک لگانے کیلئے راجیہ سبھا موجود ہے۔ راجیہ سبھا میں اس وقت کانگریس کو اکثریت ہے اور یہ این ڈی اے حکومت کے من مانی فیصلوں میں بڑی رکاوٹ ہے، جس سے بوکھلا کر بعض برسراقتدار گوشے راجیہ سبھا کی ہیت ترکیبی تبدیل کرنے کے مشورے دے رہے ہیں جو اچھی علامت نہیں ہے۔
جنرل راحیل شریف کا دورہ کابل
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ کابل اور افغانستان کے سرکردہ سیول اور فوجی رہنماؤں سے ان کی بات چیت اہمیت کی حامل ہوگی۔ راحیل شریف یہ دورہ وزیراعظم ہند نریندر مودی کے مختصر دورہ کابل اور لاہور میں اچانک توقف کے تیسرے دن کررہے ہیں۔ افغانستان طالبان کے ساتھ رکی ہوئی بات چیت دوبارہ شروع کرنے میں پاکستان کی مدد اور رول کو اہمیت دیتا ہے۔ ویسے اشرف غنی حکومت کا جھکاؤ پاکستان کی طرف زیادہ ہے۔  ان کے پیشرو صدر حامد کرزئی پوری طرح ہندوستان نواز تھے۔ حال میں افغانستان اور پاکستان نے بات چیت کے احیاء کیلئے مل جل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ صدر افغانستان اشرف غنی اس ماہ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی، جس کا مقصد طالبان کیلئے بین الاقوامی مدد کو فروغ دینا تھا۔ اسلام آباد کانفرنس میں صدر اشرف غنی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے امن مساعی جاری رکھنے کا عہد کیا۔ امریکہ اور چین نے بھی اس سلسلہ میں مدد کا تیقن دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورہ کابل سے قبل افغانستان کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نے اسلام آباد کانفرنس میں افغانستان میں قیام امن کیلئے مل جل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ سیکوریٹی تجزیہ نگار امتیاز گل نے یہ تاثرات ظاہر کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کا احیاء حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور سرحدوں پر امن کی برقراری بات چیت کے اہم موضوعات ہوں گے۔ طالبان کے ساتھ امن بات چیت کا پہلا مرحلہ جولائی میں ہوا تھا۔ اس کے بعد طالبان رہنما ملا عمر کے انتقال کے بعد سے  بات چیت میں مسلسل تعطل ہے۔ راحیل شریف ایسے وقت افغانستان کا دورہ کررہے ہیں جبکہ طالبان کمانڈرس کی آپس میں فائرنگ کے دوران ملاعمر کے جانشین ملا منصور اختر شدید زخمی ہیں اور حالیہ عرصہ میں طالبان نے دارالحکومت کابل میں پے در پے حملے کئے ہیں۔ قندھار اور قندوز میں طالبان کی جارحانہ سرگرمیاں اشرف غنی حکومت کیلئے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT