Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / سرمایہ داروں کی تجارتی ذہنیت انتہائی تیز رفتار موٹر سائیکلیں نوجوانوں کیلئے خطرناک ثابت

سرمایہ داروں کی تجارتی ذہنیت انتہائی تیز رفتار موٹر سائیکلیں نوجوانوں کیلئے خطرناک ثابت

تجارتی اغراض کیلئے زبردست استعمال، خواہش کی تکمیل کیلئے کرایہ پر گاڑیوں کا حصول
حیدرآباد 14 اپریل (سیاست نیوز) سرمایہ رکھنے والے تجارتی ذہن کے حامل افراد کسی نہ کسی طرح دولت حاصل کرنے کے راستے تلاش کرہی لیتے ہیں۔ نوجوانوں کی کمزوری تیز رفتار گاڑیاں جوکہ ہر کسی کے دسترس میں نہیں ہیں چونکہ اُن کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں۔ وہ گاڑیاں اب کرائے پر حاصل ہونے لگی ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیوں کی تیار کردہ انتہائی تیز رفتار موٹر سیکلیں جو فی زمانہ نوجوانوں کی کمزوری بنے ہوئے ہیں، اِس کمزوری کا تجارتی اغراض کے لئے زبردست استعمال شروع ہوچکا ہے۔ شہر حیدرآباد میں یومیہ 1500 تا 2 ہزار روپئے کرایہ پر ڈیزل کی کوالیس مل جاتی ہے لیکن ٹرمپ کی 675r موٹر سیکل کے لئے یومیہ 3800 روپئے کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے۔ ٹرمپ، بونویل، ہارلی ڈیوڈسن جیسی گاڑیوں کا جو فیشن چل پڑا ہے کئی نوجوان اِن موٹر سیکلوں کی خریدی کے متحمل نہیں ہیں لیکن اِس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کرایہ پر یہ گاڑیاں حاصل کررہے ہیں۔ 6 تا 8 لاکھ روپئے کی اِن موٹر سیکلوں کو خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے لیکن سرمایہ رکھنے والے افراد یہ گاڑیاں خریدتے ہوئے نوجوانوں کو شوق پورا کرنے کے لئے کرایہ پر دینے لگے ہیں۔ عموماً موٹر سیکل یا کار ذریعہ حمل و نقل ہوتی ہے لیکن اِن کمپنیوں کی گاڑیاں جو انتہائی تیز رفتار چلتی ہیں وہ عمومی اعتبار سے نوجوانوں کے لئے کرتب بازی کا ذریعہ بنتی ہے۔ جناب خلیق الرحمن صدر یوتھ اگینسٹ اسپیڈ نے بتایا کہ اِس طرح سے گاڑیوں کا کرایہ پر دیا جانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے چونکہ نوجوان یہ گاڑیاں صرف کرتب بازی کے لئے حاصل کرتے ہیں جبکہ ضرورت کے اعتبار سے اِس کا جائزہ لیا جائے تو ہزاروں روپئے بطور کرایہ ادا کرتے ہوئے گاڑیوں کا حصول ضرورت مند کے لئے نہیں ہوتا۔ انھوں نے بتایا کہ تیز رفتار گاڑیاں بنانے والی مختلف کمپنیاں نوجوانوں کی خواہشات اور کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی بائیک فروخت کررہی ہیں۔ جناب خلیق الرحمن نے گاڑیوں کو کرایہ پر دیئے جانے کے عمل کو انتہائی غلط اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس عمل سے حقیر تجارتی مفادات کی تکمیل ہوسکتی ہے لیکن تیز رفتار گاڑیوں کا شوق نوجوانوں کو اُکسانے کے مترادف ثابت ہوگا جو حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور اِس طرح کی تیز رفتار گاڑیوں کے استعمال سے اُنھیں روکیں۔ جو والدین 6 تا 8 لاکھ روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنے بچوں کیلئے گاڑی خریدنے کے متحمل ہیں اُنھیں چاہئے کہ وہ اِن تیز رفتار موٹر سیکلوں کے بجائے کار کو ترجیح دیں چونکہ تیز رفتار موٹر سیکلیں درحقیقت کرتب بازی کا ذریعہ بننے لگتی ہیں۔ جو اسپورٹس بائیکس تیار کی جارہی ہیں اُن کی تفصیل کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر بائیکس ایسی ہیں جن کے لئے پروفیشنل رائیڈر کا ہونا لازمی ہے۔ غیر پروفیشنل اور عام بائیکس چلانے والے افراد اسپورٹس بائیکس کو بہ آسانی نہیں چلاسکتے اور شہر حیدرآباد کی سڑکیں بھی اِن تیز رفتار گاڑیوں کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات بالخصوص نیکلس روڈ، جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز، منی کونڈہ، کونڈہ پور، ہائی ٹیک سٹی، شمس آباد، آؤٹر رنگ روڈ پر آئے دن نوجوانوں کو بائیک ریسنگ اور کرتب بازی کرتے ہوئے حراست میں لیا جارہا ہے لیکن اِس کے باوجود بھی حادثات میں کمی نہیں دیکھی جارہی ہے اِسی لئے یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں میں شعور بیدار کرتے ہوئے اُنھیں تیز رفتار گاڑیاں چلانے سے اجتناب کا مشورہ دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT