Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / سرواسکھشا ابھیان اسکام میں معطل عہدیداروں کی بحالی کے اقدامات

سرواسکھشا ابھیان اسکام میں معطل عہدیداروں کی بحالی کے اقدامات

باز ماموری کے لیے محکمہ تعلیمات سے رپورٹ کی طلبی ، معطل عہدیداروں کو سیاسی سرپرستی
حیدرآباد۔20اکٹوبر(سیاست نیوز) سرواسکھشا ابھیان اسکام میں ملوث محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو جنہیں معطل کیا گیا ہے ان کی بحالی کے سلسلہ میں اقدامات تیز ہو چکے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ سیاسی سرپرستی میں ان معطل عہدیداروں کو دوبارہ خدمات سے رجوع کروانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ فرضی دینی مدارس کے ذریعہ سرکاری بجٹ کا غبن کرنے والے نام نہاد ناظمین مدرسہ کی مدد کرنے والے جن عہدیداروں کو کمشنر ایجوکیشن کے احکامات کے بعد معطل کیا گیا تھا انہیں خدمات پر باز مامور کرنے کے سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ مسٹر جی کشن کمشنر محکمہ تعلیم نے سروا سکھشا ابھیان کے فنڈز کے تغلب کے سلسلہ میں فرضی دینی مدارس کے ذمہ داروں کو مدد کرنے کے الزام میں محکمہ تعلیم کے 8عہدیداروں کو معطل کرنے کے احکام جاری کئے تھے جن میں ایلیاسابق ڈپٹی ڈی ای او بندلہ گوڑہ‘ سرینواس چاری سابق ڈپٹی آئی او نامپلی ‘ اندرجیت مشیر ٓاباد کے علاوہ رضوان اللہ شامل ہیں جنہیں اسکام کی تحقیقات کو زیرالتواء قرار دیتے ہوئے بازمعمور کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ بتایا جاتاہے کہ ایس ایس اے اسکام میں ملوث محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی معطلی کے بعد مسئلہ کو نظر انداز کئے جانے پر کمشنر محکمہ تعلیم نے شدیدبرہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے اس مقدمہ میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہونے کا جائزہ لیا جائے گا۔ سروا سکھشا ابھیان میں دینی مدارس کو مالی امداد کے سلسلہ میں چلائی جانے والی اسکیم میں کئے جانے والے غبن کے سلسلہ میں کئے گئے انکشاف کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے فرضی دینی مدارس کے خلاف کاروائی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس کاروائی کے دوران 4عہدیداروں کے علاوہ محکمہ تعلیم کے 4ملازمین کو معطل کیا گیا تھا لیکن اب جبکہ ان عہدیداروں کو خدمات پر واپس لانے کے متعلق منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے تو ایسی صورت میں یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اس اسکام کی تحقیقات میں مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوگی ۔سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حیدرآباد کا بھی اس اسکام میں نام آیا تھا لیکن انہیں بھی سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب ان کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور اسی طرح فرضی دینی مدارس کے نام پر رقومات حاصل کرنے والے بیشتر ذمہ داروںکے خلاف بھی اب تک کوئی کاروائی نہ کرتے ہوئے حکومت کو یہ رپورٹ پیش کی جا رہی ہے کہ اس اسکام میں ان عہدیداروں کے ملوث ہونے کے امکانات موہوم ہیں جبکہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے اسکام کی مکمل تفصیلات اور شواہد محکمہ کو حوالے کئے جا سکے ہیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر کی گئی کاروائی کو ایک سال کا عرصہ تحقیقات کیلئے لگاتے ہوئے عہدیداروں کو واپس خدمات پر بحال کرنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ان عہدیداروں کی بازماموری کے فوری بعد معطل کئے گئے ملازمین کو بھی واپس خدمات پر بحال کرنے کے اقدامات شروع کردیئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT