Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سرواسکھشا ابھیان اسکام کی تحقیقات میں شدت

سرواسکھشا ابھیان اسکام کی تحقیقات میں شدت

سابق ڈی ای او حیدرآباد کو سمن کی اجرائی ، دینی مدارس کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر
حیدرآباد۔2مارچ (سیاست نیوز) سروا سکھشا ابھیان اسکام کی تحقیقات میں ایک مرتبہ پھر شدت پیدا کردی گئی ہے اور سی سی ایس میں جاری اسکام کے متعلق مقدمہ میں سابق ڈی ای او حیدرآباد کو تحقیقات کیلئے پیش ہونے کیلئے سمن کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ سابق ڈی ای او حیدرآباد ایم سومی ریڈی کو تحقیقات کیلئے طلب کئے جانے کے ساتھ ہی ان فرضی دینی مدارس کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے جو دینی مدارس کے نام پر بد عنوانیوں میں ملوث ہیں اور دینی مدارس میں خدمات انجام دینے والے ودیا والینٹرس کے نام پر بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے غبن کے مرتکب ہوئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں اور فرضی دینی مدارس کے ناظم کے خلاف علحدہ مقدمہ درج کروانے کو حکومت کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور بہت جلد محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے خلاف سی سی ایس یا سی آئی ڈی میں شکایت درج کروائی جائے گی تاکہ محکمہ کی جانب سے سخت کاروائی کو ممکن بنایا جا سکے کیونکہ فی الحال سی سی ایس میں درج کردہ مقدمہ میں بیشتر ذمہ داران مدارس اور عہدیداروں نے ضمانت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور یہ شکایت محکمہ کی جانب سے نہیں کروائی گئی تھی بلکہ اس شکایت کے بعد تحقیقات میں محکمہ نے صرف تعاون کیا تھا شکایت کنندہ ودیا والینٹر ہونے کے سبب محکمہ تعلیم اور سروا سکھشا ابھیان کے عہدیدار راست اس مقدمہ میں فریق بننے سے قاصر ہیں اسی لئے کمشنر ایجوکیشن نے محکمہ کی جانب سے علحدہ شکایت درج کروانے کا فیصلہ کرواتے ہوئے حکومت سے اجازت طلب کی تھی اور حکومت نے فرضی دینی مدارس کے علاوہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں و ملازمین جو اس اسکام میں ملوث ہیں ان کے خلاف شکایت درج کرواتے ہوئے کاروائی کی اجازت دیدی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ سی سی ایس میں جاری مقدمہ میں سابق ڈی ای او حیدرآباد ایم سومی ریڈی کو سمن جاری کئے جانے کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت اس اسکام میں شامل کسی بھی اہم شخصیت کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ جو کوئی ہو اس کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کاروائی اور ان رقومات کی بازیابی جو معصوم دینی مدارس کے طلبہ کو تعلیم کی فراہمی کے نام پر وصول کی گئی ہیں اسے یقینی بنانے کے متعلق سنجیدہ ہے تاکہ دینی مدارس کی اسکیم کو متاثر ہونے سے بچاتے ہوئے اسکیم کی برقراری کو ممکن بنائے۔

TOPPOPULARRECENT