Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / سرواسکھشا ابھیان اسکیم کے فرضی مدارس اسکام کے ملزمین کی پشت پناہی

سرواسکھشا ابھیان اسکیم کے فرضی مدارس اسکام کے ملزمین کی پشت پناہی

حکومت سے تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش ، مقدمات برفدان کی نذر
حیدرآباد۔15اپریل (سیاست نیوز) سروا سکھشا ابھیان اسکیم میں فرضی مدارس کے اسکام کے ملزمین کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہونے لگی ہے اور محکمہ تعلیم سے وابستہ عہدیدار و ملازمین کے علاوہ فرضی دینی مدارس کے ذمہ داران کی جانب سے حکومت کی تائید و حمایت حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اس اسکام کو مزید فرضی مدارس تک پہنچنے سے پہلے اس اسکام کے ملزمین اسے ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مزید انکشافات انہیں مشکل میں مبتلاء کرسکتے ہیں۔ کمشنر محکمہ تعلیم مسٹر جی کشن کی جانب سے فرضی دینی مدارس کے نام پر کئے جانے والے خرد برد کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے مسئلہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد سی سی ایس میں مقدمہ درج کروایا تھا اور اس مقدمہ کے ملزمین نے سرکاری سطح پر پیروی شروع کرتے ہوئے مسئلہ کو برفدان کی نذر کروانے کی ممکنہ کوششیں کرلیں لیکن ان کوششوں کے باوجود انہیں اس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ان خاطیوں کی وجہ سے ایسے دینی مدارس جو اسکیم سے مستفید ہو رہے تھے انہوں نے بھی اسکیم سے علحدگی اختیار کرلی ہے اور ان حالات کے ذمہ دار فرضی مدارس کے ناظم صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مقدمہ کو برفدان کی نذر کروانے کی کوشش کرنے لگے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس مقدمہ کے سبب مدارس دینیہ کے ذمہ داروں نے اسکیم سے علحدگی اختیار کی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سی سی ایس کی جانب سے درج کردہ مقدمہ کے علاوہ جاری تحقیقات کے متعلق چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قطعی رپورٹ طلب کی ہے کیونکہ چیف منسٹر کو محکمہ جاتی سطح پر روانہ کردہ شکایت میں اس بات سے واقف کروایا جا چکا ہے کہ بدعنوانیوں کے مرتکب فرضی دینی مدارس کے ذمہ داروں کی پشت پناہی بعض سیاسی گوشوں کی جانب سے کی جا رہی ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں و ملازمین جنہیں معطل کیاگیا ہے وہ ریاستی وزراء سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں بعض ریاستی وزراء کی مدد بھی حاصل ہونے لگی ہے لیکن سرواسکھشا ابھیان اسکام کے سبب پیدا شدہ حالات سے محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں اور چیف منسٹر کے دفتر میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ اس اسکام کے سبب ریاست کے مختلف اضلاع میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے دینی مدارس نے اسکیم سے علحدگی اختیار کرلی ہے ۔ جبکہ ان مدارس دینیہ کے ذمہ داروں کو حکومت نے مختلف تنظیمو ںاور سرکردہ شخصیتوں کے توسط سے مطمئن کرتے ہوئے اسکیم میں شامل کروایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT