Saturday , December 15 2018

سروے میں سیما ۔ آندھرا کے خاندانوں کو نشانہ بنانے کی شکایت

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکزی وزارت داخلہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کے مجوزہ سروے کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں سروے کے مقاصد اور طریقہ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ جامع سروے کے اعلان کے بعد مختلف ارکان پ

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکزی وزارت داخلہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کے مجوزہ سروے کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں سروے کے مقاصد اور طریقہ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ جامع سروے کے اعلان کے بعد مختلف ارکان پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی جانب سے مرکزی وزارت داخلہ سے نمائندگی کی گئی تھی۔ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے شکایت کی کہ اس سروے کا مقصد سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں سرکاری اسکیمات کے فوائد سے محروم کرنا ہے۔ ان شکایات کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے تلنگانہ حکومت سے رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے سروے کے مقاصد اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ مسئلہ ریاستی حکومت سے متعلق ہے، تاہم نو تشکیل شدہ ریاست اور مشترکہ دارالحکومت و مشترکہ گورنر کی موجودگی کے باعث اس طرح کے مسائل پر مرکز مداخلت کا حق رکھتا ہے ۔ مرکز نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی ہندوستانی شہری کی جانب سے شکایت ملنے پر رپورٹ طلب کرنا مرکز کی ذمہ داری ہے ۔ اسی کے تحت جامع سروے کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔ مرکزی معتمد داخلہ نے واضح کیا کہ تلنگانہ حکومت کا جواب ملنے کے بعد جامع سروے کے مسئلہ پر مرکزی حکومت اپنا موقف طئے کرے گی۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے اس سروے کی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے اور یہ معاملہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا جہاں جمعرات کو سماعت مقرر ہے۔مرکزی حکومت کے ذرائع نے کہا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ضروری اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سروے کے نام پر حکومت کو من مانی کرنے کی چھوٹ نہ دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT