Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / سرپور پیپرملز کے بندہوجانے کے خدشہ

سرپور پیپرملز کے بندہوجانے کے خدشہ

کاغذنگر /24 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاغذنگر کی سرپور پیپر ملز کا شمار بر اعظم ایشیا کی صفِ اول کی فیاکٹریوں میں ہوتا ہے جس کی بنیاد 1938 ء مںی ڈای گئی ۔ لیکن چند ناگزیر حالات کی بناء پر پچھلے تین میں سے یہ بند پڑی ہوئی ہے ۔ اسٹاف اور ورکرس کو دو ماہ تنخواہ ادا کی گئی ۔ اس ماہ مستقل مزدور تنخواہ سے محروم ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کنٹراک

کاغذنگر /24 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاغذنگر کی سرپور پیپر ملز کا شمار بر اعظم ایشیا کی صفِ اول کی فیاکٹریوں میں ہوتا ہے جس کی بنیاد 1938 ء مںی ڈای گئی ۔ لیکن چند ناگزیر حالات کی بناء پر پچھلے تین میں سے یہ بند پڑی ہوئی ہے ۔ اسٹاف اور ورکرس کو دو ماہ تنخواہ ادا کی گئی ۔ اس ماہ مستقل مزدور تنخواہ سے محروم ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کنٹراکٹ مزدوروں کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہ دیگر مقامات پر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں فیاکٹری بند ہوکر تین ماہ کا طویل عرصہ ہونے کی وجہ سفیاکٹری میں کام کرنے والے مزدور اور اسٹاف کی امیدیں موہوم سی ہوگئی ہیں ۔ اگر اندرون ایک ہفتہ فیاکٹری کا دوبارہ آغاز نہ کیا جائے تو کاغدنگر ویران ہوجائے گا ۔ بغیر مذور اور اسٹاف کو بُرے دن دیکھنے پڑیں گے حالانکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ہوم منسٹر مسٹر نائینی نرسمہا ریڈی کے علم میں بھی اس فیاکٹری کیتعلق سے بتایا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ واضح رہے کہ ہوم منسٹر نائنی نرسمہا ریڈی ہی فیاکٹری کی مزدور یونین کے پریسیڈنٹ ہیں اور بھاری اکثریت سے انہیوں نے ورکرس کو سبز باغ دکھاکر الیکشن جیتا تھا ۔ اب ان کی خاموشی ایک معمہ سی بنی ہوئی ہے ۔ ادھر فیاکٹری کی انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ حکومت کی جانب سے قرض ملے اور فیاکٹری کا آغاز ہو لیکن حکومت اور فیاکٹری کے مالک کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ اسٹاف اور مزدوروں کا نقصان ہوگا ۔ اگر خدانخواستہ یہ فیاکٹری لاک آوٹ کردی گئی یا لے آف Lay Off کا اعلان کردیا جائے ۔ آج فیاکٹری کے اسٹاف اور مزدوروں کوے ایک زبردست ریالی کا اہتمام کیا ۔ شہر کی اہم شاہراہوں سے ہوتی ہوئی یہ ریالی این ٹی آر چورساتہ پہونچی اور وہاں ایک گھنٹے تک مسلسل راستہ روکو پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس ضمن میں کاغذنگر کے تمام سرکاری اور خانگی مدارس بند رہے ۔ CITU کے قائدین ، لاری اونرس ویلفیر اسوسی ایشن کے اراکین اور SFI کے اراکین نے بھی فیاکٹری کے اسٹاف اور ورکرس کا ساتھ دیا کاغذنگر کی دیگر سیاسی اور سماجی تنظیمیں بھی ان کا ساتھ دے رہی ہیں ۔ کاغذنگر کی سماجی تنظیم جناہت منچ Janahi Munch کے ذمہ داران مسٹر سبھاش چند ایڈوائزر ، مسٹر اوم پرکاش تیواری بانی و صدر نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ اگر مذکورہ فیاکٹری بند ہوگئی تو فیاکٹری کے ورکرس اور اسٹاف کا کافی نقصان ہوگا ۔ انہوں نے چیف منسٹر ، ہوم منسٹر ، وزیر اعظم اور صدر بی جے پی تلنگانہ کو مکتوبات روانہ کئے جس میں فیاکٹری کو بند نہ کرنے کی گذارش کی گئی ۔ انہوں نیکہا کہ فیاکٹری بند ہوجانے پر تجرات اور کاروبار پر بھی برا اثر پڑے گا اور فیاکٹری کے مزدور فاقہ کشی کا شکار ہوں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیاکٹری کی انتظامیہ پر اسٹاف اور مزدوروں کی زنجیری بھوک ہڑتاہل اور ریالی کا کیا اثر ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT