Wednesday , August 15 2018
Home / ہندوستان / ’’سرڈھانکنا ہو تو مشنری اسکول نہیں مدرسہ جاؤ‘‘

’’سرڈھانکنا ہو تو مشنری اسکول نہیں مدرسہ جاؤ‘‘

یوپی میں مسلم طالبہ کو پرنسپل ارچنا کی ہدایت، والد کی درخواست مسترد
بارہ بنکی (یوپی) 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سر ڈھانکنے کی پاداش میں باغپت میں چلتی ٹرین میں تین مسلم مدرسین کی پٹائی کے ایک روز بعد آج یہاں ایک مشنری اسکول کی پرنسپل نے ایک مسلم طالبہ سے اپنا ہیڈ اسکارف نکال دینے کی ہدایت دی یا پھر کسی اسلامی ادارہ میں داخلہ لے لے۔ یہ واقعہ آنند بھون اسکول واقع نگر کوتوالی کا ہے جس پر مقامی حکام نے اِس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بیسک شکشا ادھیکاری کے پی این سنگھ نے کہاکہ ہمیں ایک شکایت ملی اور ہم نے بلاک ایجوکیشن آفیسر سے انکوائری کے لئے کہا ہے۔ اِس اسکول کو نوٹس دی گئی ہے لیکن ابھی تک اِس نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے عہدیدار سے اسکول کا دورہ کرنے اور برسر موقع انکوائری کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ طالبہ کے والد محمد رضوی نے الزام عائد کیاکہ وہ اسکول پرنسپل ارچنا تھامس سے تحریری درخواست کے ساتھ رجوع ہوئے کہ اُن کی بیٹی کو مذہبی نقطہ نظر کے اعتبار سے سر ڈھانکے رکھنے کی اجازت دی جائے لیکن پرنسپل نے اُن سے کہاکہ اگر وہ اسکول کے قواعد کی تعمیل نہیں کرسکتے تو اپنی بیٹی کا کسی اسلامی مدرسہ میں داخلہ کروائیں۔

TOPPOPULARRECENT