Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکولس میں برقی سربراہی کی انتہائی ابتر صورتحال

سرکاری اسکولس میں برقی سربراہی کی انتہائی ابتر صورتحال

حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی عصری کمپیوٹر تعلیم کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن ان دعوؤں میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ اسکولوں میں موجود سہولتوں سے کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی تصدیق اب حکومت ہند بھی کررہی ہے کہ جنوبی ہند کی 4 ریاستوں میں آندھرا پردیش کے

حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی عصری کمپیوٹر تعلیم کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن ان دعوؤں میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ اسکولوں میں موجود سہولتوں سے کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی تصدیق اب حکومت ہند بھی کررہی ہے کہ جنوبی ہند کی 4 ریاستوں میں آندھرا پردیش کے سرکاری اسکولس برقی کنکشن کے معاملہ میں سب سے ابتر ہیں ۔ آندھرا پردیش کے سرکاری اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم دئیے جانے کا حکومت دعوی تو کرتی ہے لیکن اس میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ریاست تقریبا 14 فیصد اسکولوں میں آج بھی برقی کنکشن ہی نہیں ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں مجموعی اعتبار سے 85.89 فیصد برقی کنکشن موجود ہیں جب کہ پرائمری اسکولوں میں صرف 81.98 فیصد برقی سہولت موجود ہے ۔ اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو ریاست آندھرا پردیش کے 18 فیصد پرائمری اسکولوں میں برقی سربراہی کی سہولت موجود نہیں ہے ۔

مرکزی حکومت کے محکمہ مواصلاتی ٹکنالوجی کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے اعتبار سے گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریبا ہر ریاست میں اسکولوں میں برقی سربراہی کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے لیکن چند برسوں قبل تک بھی انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز سمجھی جانے والی ریاست آندھرا پردیش کے سرکاری اسکولوں میں برقی سربراہی کا فیصد حیران کن ہے چونکہ ان اعداد و شمار کے مطابق آندھرا پردیش جنوبی ہند کی ریاستوں میں سب سے پیچھے ہے اور کرناٹک میں صورتحال دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں کافی بہتر ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں برقی کنکشن کے معاملہ میں ریاست کرناٹک کے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ریاست میں 96.54 فیصد اسکولوں میں برقی سربراہی کو یقینی بنایا جارہا ہے جب کہ پرائمری سطح پر 95.29 فیصد سرکاری اسکولوں میں برقی کنکشن موجود ہیں اسی طرح دوسرے نمبر پر ریاست ٹامل ناڈو ہے جہاں کے اعداد و شمار کے اعتبار سے تمام اسکولوں میں برقی سربراہی کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ ریاست ٹاملناڈو میں جملہ 96.49 فیصد اسکولوں میں برقی سربراہی موجود ہے اور پرائمری سطح کے اسکولوں کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرائمری اسکولوں میں ٹامل ناڈو کی صورتحال کرناٹک سے قدرے بہتر ہے اور 95.97 فیصد اسکولوں میں برقی کنکشن موجود ہیں ۔ حکومت ہند کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے حساب سے ریاست کیرالا جنوبی ہند کی ریاستوں میں تیسرے نمبر پر ہے جو سرکاری اسکولوں کو برقی سربراہ کرنے میں آگے ہے ۔

کیرالا کے اعداد و شمار کچھ اس طرح ہیں کہ تمام اسکولوں میں برقی کنکشن کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ کیرالا کے 90.70 فیصد سرکاری اسکولوں میں برقی سربراہی ہے جب کہ پرائمری سطح کے 87.63 فیصد اسکول میں حکومت کیرالا برقی سربراہ کررہی ہے ۔ سب سے آخری اور چوتھے نمبر پر ریاست آندھرا پردیش ہے جس میں صرف 85.89 فیصد اسکولوں میں برقی سربراہی موجود ہے جب کہ پرائمری اسکولوں میں 81.89 فیصد برقی سربراہی ہے ۔ گذشتہ تین سال کے جو اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں اس اعتبار سے آندھرا پردیش کے سرکاری اسکولوں میں برقی سربراہی کی صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور سال گذشتہ مجموعی اعتبار سے سرکاری اسکولوں میں برقی سربراہی کا فیصد 81.76 تھا جب کہ سال 2010-11 میں یہ فیصد صرف 67.12 فیصد ہوا کرتا تھا ۔ ملک بھر کی تمام ریاستوں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے اعتبار سے چندی گڑھ ، لکشدیپ ، پانڈیچری ، میں 100 فیصد سرکاری اسکولوں میں برقی کنکشن موجود ہیں ۔ ان اعداد و شمار کے اعتبار سے ملک بھر میں موجود سرکاری اسکولوں میں صرف 49.92 فیصد ایسے اسکول ہیں جن میں برقی کنکشن ہیں اور ملک کے 39.95 فیصد پرائمری اسکولوں میں برقی سربراہی کی سہولت موجود ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT