Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے اقدامات

سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے اقدامات

تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے تمام امور کی تکمیل ، محکمہ تعلیم کی عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔23مئی (سیاست نیوز) سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدمات کو ممکن بنایا جائے اور تمام سرکاری اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو بہتر سے بہتر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام اضلاع کے عہدیداروں اور ضلع کلکٹرس کو اس بات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کے اقدمات کو مکمل کرلیں۔ آئندہ ماہ کے اوائل سے قبل اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے انتظامات کو مکمل کرلینے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کی جانب سے ضلع کلکٹرس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں جیسے بیت الخلاء ‘ صفائی‘ آہک پاشی‘ فرنیچر کی درستگی کو مکمل کرلیں تاکہ اسکولوں کی کشادگی کے بعد کوئی کام باقی نہ رہے اور طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں بہتر سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام اضلاع میں ضلع ایجوکیشن عہدیداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں موجود سرکاری اسکولو ں میں درکار سہولتوں کے متعلق ضلع کلکٹر سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں مسائل سے واقف کروائیں اور کسی بھی حالت میں ماہ جون کے وسط تک تمام امور کی انجام دہی کو ممکن بنالیا جائے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ضلع رنگاریڈی کے اسکولو ںمیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ان اسکولوں میں فوری طور پر کیا سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے۔ بتایاجاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں صاف و شفاف پینے کے پانی کی سربراہی کے علاوہ بیت الخلاء کی تعمیر اور جن عمارتوں کو آہک پاشی و رنگ و روغن کی ضرورت ہے ان کی فہرست تیار کی جا رہی ہے علاوہ ازیں محکمہ تعلیم کی جانب سے مخدوش عمارتوں میں چلائے جانے والے سرکاری اسکولوں کی علحدہ فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ان عمارتوں کی مرمت یا اسکولوں کی منتقلی کے عمل کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی جانب سے آئندہ ہفتہ ضلع کلکٹر حیدرآباد و رنگا ریڈی کو اس سلسلہ میں مکمل تفصیلات پیش کرتے ہوئے اقدامات کیلئے نمائندگی کی جائے گی ۔ جن اسکولوں میں فرنیچر موجود نہیں ہے ان اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی اور موجود فرنیچر کی درستگی کے عمل کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT