Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکولس میں ترک تعلیم کے رجحان کو روکنے میں حکومت ناکام

سرکاری اسکولس میں ترک تعلیم کے رجحان کو روکنے میں حکومت ناکام

محبوب نگر سرفہرست ، محکمہ تعلیمات کی رپورٹ کے اعداد و شمار تشویشناک
حیدرآباد۔20جولائی ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں میں ترک تعلیم کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کو روکنے میں حکومت اور محکمہ تعلیم ناکام ہوچکے ہیں۔ریاست میں ترک تعلیم کے رجحان میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور اس تشویشناک اضافہ کو روکا جانا نا گزیر ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے اعدادو شمار کے بموجب ریاست میںسب سے زیادہ ابتر صورتحال ضلع محبوب نگر کی ہے جہاں 10ویں جماعت تک 50فیصد طلبہ اسکول ترک کررہے ہیں۔ اسی طرح عادل آباد نمبر دو پر ہے جہاں ترک تعلیم کرنے والوں کا فیصد 44.83ہے جبکہ ضلع میدک نمبر تین پر جہاں 43.69فیصد طلبہ ترک تعلیم کر رہے ہیںاور ورنگل میں 41.41فیصد طلبہ ترک تعلیم کر رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں سب سے کم ترک تعلیم کا فیصد ضلع رنگا ریڈی میں ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں 28.11طلبہ ترک تعلیم کر چکے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے تیارکردہ سالانہ رپورٹ برائے سال 2016میں شائع کردہ یہ اعداد شمار انتہائی تشویشناک سمجھے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں اوسط ترک تعلیم کا فیصد 37.56ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اور ترک تعلیم کا رجحان لڑکوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں میں ترک تعلیم کے رجحان میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ترک تعلیم کرنے والے لڑکوں کا فیصد 38.76ہے جبکہ لڑکیوں کے فیصد میں معمولی کمی کے ساتھ یہ فیصد 38.31ہے۔تفصیلات کے بموجب یکم تا پانچویں جماعت میں ترک تعلیم کرنے والوں کا فیصد 19.25ہے جبکہ پہلی تا آٹھویں جماعت کے دوران ترک تعلیم کرنے والوں کا فیصد 31.14ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ضلع محبوب نگر میں مجموعی فیصد کا مشاہدہ کئے جانے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ضلع میں ترک تعلیم کرنے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ لڑکوں کی تعداد کم ہے۔ محبوب نگر میں 50.33فیصد لڑکیاں ترک تعلیم کر رہی ہیں تو 49.34لڑکے ترک تعلیم کر رہے ہیں۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ نقل مکانی کے سبب ترک تعلیم کے فیصد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے اس رجحان سے نمٹنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ریاست میں مستحکم تعلیمی پالیسی کو روشناس کروایا جائے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ نقل مکانی ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ کی واحد وجہ نہیں ہے بلکہ کئی ایک امور کا ا س میں دخل ہے۔ ریاست میں ذرائع معاش کی تلاش میں نقل مکانی کرنے والوں کے بچوں کے ترک تعلیم کو اگر مان لیا جائے تو جن مقامات پر نقل مکانی کی جا رہی وہاں کے فیصد میں اضافہ ہونا چاہئے مگر ایسا کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ نقل مکانی کرنے والے اگر تلنگانہ سے دیگر ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں یہ مسئلہ مزید سنگین نوعیت کا تصور کیا جا ئے گا کیونکہ ریاست سے نقل مکانی کا مطلب ریاست میںتلاش روزگار میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔

سی پی آئی ایم ایل اے کے خلاف
کارروائی کا اسپیکر سے مطالبہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جولائی : ( این ایس ایس) : ریاستی سکریٹری سی پی آئی نے اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مدھو سدن چاری سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ ضلع نلگنڈہ کے سی پی آئی ایم ایل اے آر رویندر کمار کو ٹی آر ایس میں شمولیت پر کارروائی کی جائے ۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سی پی آئی ریاستی سکریٹری سی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ رویندر کمار سی پی آئی کے ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی دیورکنڈہ ضلع نلگنڈہ سے منتخب ہوئے ہیں اور بعد ازاں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ جب کہ رویندر کمار اور دیگر پارٹی تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے ساتھ دل بدلی قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ رویندر کمار کو پارٹی سے برطرف کردیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT