Tuesday , December 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سرکاری اسکولوں میں تعلیم پالیسی ناکام

سرکاری اسکولوں میں تعلیم پالیسی ناکام

یلاریڈی ۔ 7 ۔ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حکومت کے خام فیصلوں سے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی حالت دم توڑ رہی ہے ۔ لمحہ لمحہ بدلتے حکومت کے فیصلوں سے ایک طرف طلباء دوسری طرف اولیائے طلباء میں تشویش پائی جاتی ہے ، گزشتہ ماہ 21 مارچ سے نئے تعلیمی سال کا آغازکرنے کیلئے محکمہ تعلیمات نے فیصلہ کیا تھا لیکن کتابوں کو اسکولوں پر عدم سربراہی سے یہ قدم ناکام ثابت ہوا اور قدیم طریقہ سے تدریسی نظام چلانا پڑا ۔ جس سے سالانہ امتحانات کے اختتام کے بعد بھی طلباء کی غیرضروری طور پر مصروف ہونا پڑا ۔ حکومت نے طلباء کے ساتھ ایک ماہ کیلئے بھونڈا مذاق کیا ہے ۔ جلد بازی کر کے قبل ازوقت سالانہ امتحانات لیتے ہوئے ایک طرح کا ظلم کیا گیا اور 19 مارچ کو طلباء میں نتائج اعلان کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو غلطی کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے آج حکومت طلباء کو غیر ضروری اسکولوں کا رخ کرنے پر مجبور کررکھی ہے جو کسی تعجب سے کم نہں ہے ۔ کئی اسکولوں پر تو طلباء کا حاضری فیصد غیرمعمولی کم ہوچکا ہے ، کیونکہ طلباء سالانہ امتحانات کے بعد کونسی تعلیم حاصل کرنے اس جماعت میں روز آکر بیٹھیں ؟ حکومت کی پالیسی غلط ہے یہ طلباء کو بھی احساس ہوگیا ہے اور اساتذہ کے صبر کا بھی امتحان ہورہا ہے جو روزانہ بناء طلباء کے اسکولوں پر بیٹھے رہنا ضروری ہے ۔ ضلع بھر میں 1459 پرائمری اسکولس اور 271 اپرپرائمری اسکولس ہیں اور 432 ہائی اسکول ہیں ۔ ان میں دسویں جماعت کے طلباء کو نکال دیں تو تقریباً دو لاکھ طلباء تک تعلیم حاصل کررہے ہیں ان طلباء کو 23 اپریل تک اساتذہ کا کام تعلیم دینا ہے مگر کونسی تعلیم دیں پتہ نہیں ، تعلیم کے معاملے میں اگر حکومت کے ایسے خام فیصلہ ہونگے تو طلباء کا نقصان ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT