Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکیمات سے استفادہ کیلئے گھر گھر جامع سروے مسلمانوں کا حصہ لیناضروری

سرکاری اسکیمات سے استفادہ کیلئے گھر گھر جامع سروے مسلمانوں کا حصہ لیناضروری

سروے میں تفصیلات کا اندراج اہم دستاویزات ثابت ہوں گے مذہبی سماجی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس سے جناب زاہد علی خاں ، حامد محمد خاں اور دیگر کا خطاب

سروے میں تفصیلات کا اندراج اہم دستاویزات ثابت ہوں گے
مذہبی سماجی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس سے جناب زاہد علی خاں ، حامد محمد خاں اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : سارے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں مسلمانوں کو حکومت کی جانب سے 19 اگست کو کئے جانے والے گھر گھر سروے میں ضرور حصہ لینا چاہئے کیوں کہ یہ سروے کوئی عام سروے نہیں بلکہ حکومتی اسکیمات سے استفادہ کرنے والوں کے سماجی و معاشی موقف کے تعین کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے روزنامہ سیاست کی جانب سے گھر گھر سروے کے بارے میں شہر کی مذہبی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں اور اسکول کرسپانڈنٹس کے ساتھ محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس اجلاس میں عوام کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی ۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس سروے کے مستقبل میں اہم اثرات مرتب ہوں گے یہ جہاں عوام کے لیے اپنے معاشی و سماجی موقف کا تعین کرانے کا اچھا موقع ہے وہیں تلنگانہ میں مسلمانوں کو اپنی تعداد دکھانے کے ساتھ ساتھ معاشی پسماندگی سے بھی حکومت اور سرکاری اداروں کو واقف کرانے کا بہترین موقع ہے ۔ اس لیے کہ مسلمانوں دلتوں اور بدھسٹوں سے بھی ہر شعبہ میں کمزور اور پسماندہ ہیں ۔ یہ سروے مستقبل میں مسلمانوں کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس وجہ سے سیاست نے گھر گھر جامع سروے کے بارے میں خصوصی مہم چلائی ہے ۔ عوام میں شعور بیدار کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے جناب حامد محمد خاں صدر موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس عوامی مجلس عمل کے جناب مجاہد ہاشمی ، مہر آرگنائزیشن کے جناب افنان قادری ، سماجی جہد کار اختر صدیقی بھی موجود تھے ۔ نمائندہ خصوصی نے ابتداء میں گھر گھر سروے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور عوام میں پائے جانے والے خدشات کو سوال و جواب کے سیشن میں دور کیا ۔ جناب زاہد علی خاں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا کہ اپنی زبان کے طور پر ’ اردو ‘ کا اندراج کروائیں ۔ اور تعلیمی قابلیت کی خانہ پری پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں ریاستی حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے ثمرات سے مستفید ہونے اور امکنہ پروگرامس میں انہیں ان کا حق دے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی مذہبی اور سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سروے کے بارے میں عوام کو واقف کروائیں اور یہ بتائیں کہ یہ سروے ان کے معاشی و سماجی موقف کا تعین کرے گا ۔ جناب زاہد علی خاں نے تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر یوم آزادی کے موقع پر رسم پرچم کشائی انجام دینے سے متعلق کے سی آر کے منصوبہ اور تیاریوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ قلعہ گولکنڈہ پر رسم پرچم کشائی انجام دینا دہلی کے لال قلعہ پر پرچم لہرانے کے مترادف ہے ۔ اس موقع پر جناب حامد محمد خاں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی تعداد اور اہمیت کا احساس دلانے کے لیے اس سروے میںحصہ لینا ضروری ہے ۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے 91 لاکھ خاندانوں میں سفید راشن کارڈس ہیں ۔ 15 لاکھ خاندان گلابی راشن کارڈس کے حامل ہیں ۔ جب کہ 15 لاکھ درخواستیں زیر تصفیہ ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سفید راشن کارڈس مستحقین کے پاس نہیں ہیں اور سفید راشن کارڈس سے محروم مستحقین میں مسلمان سرفہرست ہیں ۔ آندھرا والوں نے امکنہ پروگرام اور دوسری فلاحی اسکیمات میں مسلمانوں کو ان کا حصہ نہیں دیا بلکہ فرضی ناموں پر مکانات اور اسکالر شپس کے چیکس حاصل کئے گئے ۔ اس طرح سرکاری خزانے کو لوٹا گیا لیکن امید ہے کہ اس سروے کے بعد ایسا نہیں ہوگا ۔ مستحقین کو ان کا حق ملے گا ۔ بیواؤں ، معذورین اور ضعیفوں کو وظائف حاصل ہوں گے ۔ عوامی مجلس عمل کے مجاہد ہاشمی کے مطابق آج جمعہ کے خطبات میں آئمہ اس سروے کے بارے میں عوام کو واقف کرائیں گے تاکہ مسلمان سروے میں اپنے صد فیصد حصہ لینے کو یقینی بنائیں ۔ مہر آرگنائزیشن کے جناب افنان قادری نے بتایا کہ ان کی تنظیم اس معاشی سروے سے متعلق شعور کی بیداری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہی ہے ۔ اہم مقامات پر ہورڈنگس نصب کئے گئے ہیں ۔ اس اہم ترین اجلاس میں جناب سید خالد محی الدین اسد انچارج سیاست ہیلپ لائن اور احمد صدیقی مکیش بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT