سرکاری اشتہارات میں سیاستدانوںکی تصویر پر امتناع

نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : سپریم کورٹ نے آج عوامی اشتہارات کو باقاعدہ بنانے کے لیے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں اور کہا کہ ان میں بعض اہم شخصیتوں صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف انڈیا کی تصاویر شائع کی جاسکتی ہیں ۔ جسٹس رنجن گوگوئی زیر قیادت بنچ نے مرکزی حکومت کے استدلال کو مسترد کردیا کہ پالیسی ساز فیصلوں میں عدلیہ

نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : سپریم کورٹ نے آج عوامی اشتہارات کو باقاعدہ بنانے کے لیے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں اور کہا کہ ان میں بعض اہم شخصیتوں صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف انڈیا کی تصاویر شائع کی جاسکتی ہیں ۔ جسٹس رنجن گوگوئی زیر قیادت بنچ نے مرکزی حکومت کے استدلال کو مسترد کردیا کہ پالیسی ساز فیصلوں میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی اور کہا کہ اگر کوئی پالیسی یا قانون نہ ہونے کی صورت میں عدالت قدم اٹھاسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ بنچ نے مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ عوامی اشتہارات کی اجرائی کو باقاعدہ بنانے کے لیے ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے اور عدالت نے سرکاری اشتہارات کو باقاعدہ بنانے پر کمیٹی کے اہم سفارشات کو قبول کرلیا ہے ۔ تاہم ماہر تعلیم پروفیسر این آر مادھوان مینن کی زیر قیادت سہ رکنی کمیٹی کی ایک سفارش کو عدالت نے قبول نہیں کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات میں اہم شخصیتوں بشمول صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کی تصاویر شائع نہ کی جائیں ۔ قبل ازیں 17 فروری کو حکومت نے اشتہارات کو باقاعدہ بنانے کیلئے عدالت کی جانب سے رہنمایانہ خطوط واضح کئے جانے کی مخالفت کی تھی اور یہ استدلال پیش کیا تھا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتا ۔

کیوں کہ منتخبہ عوامی نمائندے ، پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتے ہیں اور یہ سوال اٹھایا تھا کہ عدالت یہ کس طرح فیصلہ کرسکتی ہے کونسا اشتہار سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے ۔ جب کہ ماہرین کمیٹی نے یہ سفارش کی ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے اہم شخصیتوں کی یوم پیدائش یا برسی کے موقع پر اشتہارات جاری کرسکتی ہے اور دیگر مواقع پر اشتہارات کی اجرائی سے سرکاری فنڈ کا بیجا استعمال ہوگا ۔دریں اثناء انڈین لینگویجس نیوز پیپر اسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا کہ سرکاری اشتہارات میں مرکزی وزراء ‘ چیف منسٹرس ‘ ریاستی وزراء اور دیگر کی تقاریر کی اشاعت پر پابندی عائد رہے گی اور یہ مطالبہ کیا کہ بغیر کسی امتیاز کے چھوٹے اور متوسط اخبارات کو اشتہارات جاری کئے جائیں کیونکہ ان دنوں صاحب اقتدارطبقہ اپنی تشہیر کیلئے انگریزی اخبارات کو ترجیح دے رہا ہے جس سے ہندوستانی زبانوں کے اخبارات کی حق تلفی ہورہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT