Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری املاک و پولیس پر حملہ کا مقدمہ

سرکاری املاک و پولیس پر حملہ کا مقدمہ

حیدرآباد 8 جنوری (سیاست نیوز) نامپلی کریمنل کورٹ کے ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے 14 سال پرانے ایک مقدمہ میں 9 مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا۔ جبکہ استغاثہ ملزمین کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ تفصیلات کے بموجب 2004 ء میں مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے فرزند مجاہد سلیم اعظمی کو گجرات پولیس کی ایک ٹیم نے اُس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ سعیدآباد کے مولانا محمدنصیرالدین کو گجرات کے ایک کیس میں گرفتار کرکے اپنے ہمراہ احمدآباد لیجانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ بعد پوسٹ مارٹم مجاہد سلیم کی نعش اُن کی رہائش گاہ سعیدآباد منتقل کی جارہی تھی کہ بعض برہم نوجوانوں نے علاقہ میں مبینہ سنگباری کرکے بعض سرکاری املاک کے علاوہ پولیس پر حملہ کیا تھا۔ واقعہ کے بعد سعیدآباد پولیس نے مقدمہ 410/2004 درج کیا تھا اور اِس کیس میں 33 ملزمین کے نام موجود تھے۔ فرقہ وارانہ نوعیت کا مقدمہ ہونے پر کیس کی تحقیقات کو ایس آئی ٹی کے حوالے کی تھی جس نے 11 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جبکہ ملزمین نمبر 12 تا 33 کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت نوجوانوں اور اُس وقت کے صدر ڈی جی ایس شیخ محبوب علی مرحوم کے خلاف الزامات عائد کئے تھے لیکن مقدمہ کی سماعت کے دوران شیخ محبوب علی و ایک ملزم سلیم شریف کا انتقال ہوگیا ۔ 9 ملزمین محمد شرف الدین، محمد ظہیر، ندیم شریف، فرید، محمد عبدالعزیز، سید رشید، عظیم علی، شکیل اور معتصم باللہ کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور ایڈوکیٹ مسٹر ایم اے عظیم نے اِس مقدمے کی پیروی کی۔ استغاثہ اور وکیل دفاع کے درمیان مباحث کے بعد عدالت نے 9 ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت دستیاب نہ ہونے کے نتیجہ میں اُنھیں باعزت بری کردیا۔

TOPPOPULARRECENT