Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری تقررات کیلئے عوام کو دھوکہ کا شکار نہ ہونے کا مشورہ

سرکاری تقررات کیلئے عوام کو دھوکہ کا شکار نہ ہونے کا مشورہ

بعض افراد کا جھانسہ، بھاری رقومات وصول کرنے کی شکایتیں، سکریٹری تلنگانہ پی سی سی

حیدرآباد ۔ 28مئی ( سیاست نیوز)  تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے سکریٹری پاروتی سبرامنیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تقررات کے سلسلہ میں دھوکہ کا شکار نہ ہوں اور درمیانی افراد سے رجوع نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمشین کو مختلف شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض افراد تقررات کا جھانسہ دے کر عوام سے رقومات وصول کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اس طرح کا دعویٰ کرتا ہے تو اُس پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے بارے میں کمیشن سے شکایت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہیکل انسپکٹرس کے تقررات کے سلسلہ میں بعض شکایات ملی ہیں جس پر کمیشن نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے ۔  پولیس نے بعض بروکرس اور درمیانی افراد کو گرفتار کیا جو معصوم عوام کو دھوکہ دے رہے تھے ۔ سکریٹری کمیشن کے مطابق ملزمین کے قبضہ سے 15لاکھ 88 ہزار روپئے ضبط کئے گئے ہیں ۔  انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے دھوکے باز کے بارے میں کمیشن کے میل آئی ڈی [email protected]پر شکایت کرے ۔ واضح رہے کہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے مختلف سرکاری محکمہ جات کے عہدوں پر تقررات کا عمل شروع ہوا ہے جن میں ٹرانسپورٹ پولیس ‘ آبپاشی ‘ میڈیکل اینڈ ہیلت اور عمارات و شوارع شامل ہیں ۔

 

غیر پراکٹس شدہ ایڈوکیٹس کے سرٹیفکیٹس کی جانچ
تفصیلات داخل کرنے صدر اے پی بار کونسل کی ہدایت

حیدرآباد ۔ 28 مئی (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں اے پی بار کونسل نے تمام وکلاء کو ہدایت دی ہیکہ وہ اپنے متعلقہ بار کونسل کے ذریعہ اپنے اسنادات اور پراکٹس کے مقام کی بار کونسل آف انڈیا کے روبرو جانچ و تصدیق کروائیں۔ صدرنشین بار کونسل آف اے پی اے نرسمہن ریڈی کے مطابق ایڈوکیٹس کے صداقت ناموں ان کے پراکٹس کے مقام کی تصدیق کا اصل مقصد غیر پراکٹس شدہ ایڈوکیٹس کا پتہ چلانا ہے۔ انہوں نے بتایا کئی بار اسوسی ایشن اور بار کونسل غیر پراکٹس شدہ ایڈوکیٹس سے لاعلم ہیں۔ ایک اجلاس میں اے پی بار کونسل نے یکم ؍ جون 2016ء سے ان قواعد پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ ان قوانین کے مطابق تمام ایڈوکیٹس کو اپنے تعلیمی صداقت ناموں جیسے دسویں جماعت، گریجویشن، قانون کی ڈگری کی تفصیلات کو پیش کرنا ہوگا۔ تاہم جو وکلاء چالیس سال سے پراکٹس کررہے ہیں، انہیں تعلیمی صداقتنامے یپش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں رہے گی۔ تاہم انہیں انرول مینٹ سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ اس طرح جن وکلاء نے آل انڈیا بار ایگزامنیشن کی تکمیل کی اور پانچ سال سے پراکٹس کررہے ہیں، انہیں تعلیمی صداقتناموں کو پیش کرنا ہوگا۔ سرٹیفکٹ کی جانچ کیلئے 250 روپئے فیس بذریعہ ڈیمانڈ ڈرافٹ A/C PAYEE چیک بحق سکریٹری اے پی بار کونسل یا نقد داخل کرنا ہوگا۔ اے پی بار کونسل نے ریاست اے پی و تلنگانہ کے تمام ایڈوکیٹس سے گذارش کی ہیکہ وہ بلاتاخیر اپنے متعلقہ صداقتنامہ داخل کریں۔ بار کونسل آف انڈیا کے مطابق دو فہرستیں پراکٹس کرنے والے ایڈوکیٹس اور غیر پراکٹس شدہ ایڈوکیٹس تیار کی جائیں گی اور جو وکلاء غیر پراکٹس شدہ پائے جائیں گے انہیں کسی عدالت میں پراکٹس کی اجازت نہیں ہوگی اور بہبودی فنڈس فوائد کے مستحق نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے صداقتناموں کی جانچ نہیں کرواتے۔

TOPPOPULARRECENT