Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کا خیر مقدم ، مسلم تحفظات کے ذریعہ تقررات پر زور

سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کا خیر مقدم ، مسلم تحفظات کے ذریعہ تقررات پر زور

ٹی آر ایس قیادت کو منشور کے مطابق عمل کا مشورہ ، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 27 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے 15 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقررات کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ۔ آرڈیننس جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دیتے ہوئے تقررات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ چار ماہ کے دوران فلاح و بہبود پر صرف 19 فیصد فنڈز خرچ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ہر سال ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں دینے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر نے اقتدار حاصل ہوتے ہی 50 ہزار ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا پھر تلنگانہ کے پہلے یوم تاسیس کے موقع پر جولائی میں 25 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ۔ کل 15 ہزار جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ۔ کانگریس پارٹی اس کا بھی خیر مقدم کرتی ہے اور چیف منسٹر سے اپیل کرتی ہے کہ انہوں نے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ اقتدار کے 14 ماہ مکمل ہوگئے مگر 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے گئے صرف ریٹائرڈ آئی اے ایس مسٹر سدھیر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ایک رکن کا ابھی تک تقرر نہیں کیا گیا اور نا ہی اس کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت ہے ۔ سپریم کورٹ نے تحفظات کے لیے کسی بھی طبقہ کو فہرست میں شامل کرنے اور فہرست سے نکالنے کے لیے قانونی اختیارات رکھنے والی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کئے ہیں اگر چیف منسٹر مسلمانوں ، قبائلی طبقات کی ترقی اور بہبود کے لیے سنجیدہ ہیں تو وہ انہیں سرکاری ملازمتوں میں فائدہ پہونچانے کے لیے 12 فیصد کا آرڈیننس جاری کریں اور اس کے بعد تقررات کے اعلامیے جاری کریں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے غریب عوام کی فلاح و بہبود کو یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ سال برائے 2015-16 کے بجٹ میں حکومت نے ایس سی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے 5,547 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا اور 4 ماہ کے دوران صرف 1,174 کروڑ یعنی 21 فیصد بجٹ جاری کیا ۔ ایس ٹی طبقات کے لیے 2898 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا اور 649 کروڑ یعنی 22 فیصد بجٹ جاری کیا ۔ بی سی ویلفیر کے لیے 2172 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا تاہم صرف 287 کروڑ روپئے یعنی 13 فیصد بجٹ جاری کیا ۔ اقلیتوں کے لیے 1105 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا مگر صرف 177 کروڑ روپئے یعنی 16 فیصد بجٹ جاری کیا ہے ۔ مجموعی طور پر سماج کے تمام طبقات کی ترقی کے لیے ٹی آر ایس حکومت نے صرف 19 فیصد بجٹ ہی جاری کیا ہے ۔ اہم معاملات پر توجہ دینے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں کو منہدم کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT