Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری خزانہ بھاری، عوام کی جیب خالی

سرکاری خزانہ بھاری، عوام کی جیب خالی

جی ایس ٹی کے بعدگھریلو اخراجات میں اضافہ، ایک ماہ کی تنخواہ 20دن میں ختم
حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : وزیر اعظم نریندر مودی نے ’ ایک ملک ایک ٹیکس ‘ کا نعرہ دیتے ہوئے جی ایس ٹی متعارف کرایا ہے ۔ جو عوام کے لیے بجائے رحمت کے زحمت ثابت ہورہا ہے ۔ گھریلو اخراجات میں اچانک 30 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے اور ایک ماہ کی تنخواہ صرف 20 دن میں ختم ہوجارہی ہے ۔ ایک سروے میں 54 فیصد عوام نے اس طرح کی شکایتیں کی ہیں ۔ نوٹ بندی کو بولڈ فیصلہ قرار دینے والے وزیراعظم نے جی ایس ٹی کے نام پر ملک کے عوام کو ایک اور خوبصورت خواب دکھایا جی ایس ٹی پر عمل آوری سے مرکز کا سرکاری خزانہ تو بھر رہا ہے مگر عوام کی جیب خالی ہورہی ہے ۔ گڈس سرویس ٹیکس کو نریندر مودی نے گڈ اینڈ سمپل ٹیکس قرار دیتے ہوئے سارے ملک میں ایک ہی ٹیکس نافذ رہنے سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہونے کا عوام کو بھروسہ دلایا تھا لیکن اس کے توقع کے برعکس نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل آوری کا آغاز ہوا ۔ جس سے گھریلو اخراجات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہر دو افراد میں ایک فرد اس کی شکایت کررہا ہے ۔ جی ایس ٹی کی عمل آوری کے دو ماہ کی تکمیل کے بعد لوکل سرکل عوامی شکایت پورٹل نے مرکزی استفادہ کنندگان امور کے شعبہ کے ساتھ ایک مشترکہ سروے کیا ہے ۔ جملہ 9000 افراد سے جی ایس ٹی پر عمل آوری سے ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کے معاملے میں جاننے کی کوشش کی گئی ۔ 54 فیصد عوام نے گھریلو اخراجات میں 30 فیصد اضافہ ہوجانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ سروے میں حصہ لینے والے 50 فیصد افراد نے میڈیسن کے ماہانہ اخراجات میں 30 فیصد کا اضافہ ہوجانے کی توثیق کی ہے ۔ پورٹل کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات پر 40 ہزار سے زائد افراد نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ درکاندار نقد ادائیگی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ جی ایس ٹی کے دباؤ سے دوکانداروں کی جانب سے دیا جانے والا ڈسکاونٹ بھی بند ہوجانے کی شکایتیں وصول ہورہی ہیں ۔ بیشتر عوام نے بتایا کہ ان کی ماہانہ تنخواہ صرف 20 دن میں ختم ہوجارہی ہے ۔ باقی 10 دنوں کے اخراجات کے لیے انہیں زیادہ کام کرنا پڑرہا ہے یا قرض پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے عام آدمی تشویش میں ہے ۔ مگر مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی بہت زیادہ خوش ہیں انہوں نے ماہ جولائی میں جی ایس ٹی کلکشن 95000 کروڑ تک پہونچ جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت کی منصوبہ بندی کو کامیاب قرار دیا ہے ۔ ساتھ ہی ٹیکس کے دائرے مزید 70 فیصد افراد داخل ہوجانے کا بھی ادعا پیش کیا ہے ۔ تاہم ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ری فنڈ کیلیم 62,000 کروڑ ہونے پر جی ایس ٹی کونسل کو بات ہضم نہیں ہورہی ہے ۔ اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو جی ایس ٹی کلکشن 33000 کروڑ ہی ہوگا ۔ فینانس سکریٹری ہسمکھ ادیا نے ان پٹ ٹیکس کریڈیٹ کیلیم حکومت کی توقع سے زیادہ ہونے کا ریمارکس کرنے سے حالت خراب ہونے کا نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT