Wednesday , December 19 2018

سرکاری دعوت افطار میں مسلم تحفظات مطالبہ کی گونج

روزنامہ سیاست کی مہم کا اثر
نلگنڈہ میں وزیر برقی کی تقریر کے دوران مسلمانوں کی نعرہ بازی

نلگنڈہ 12 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نلگنڈہ میں آج ریاستی وزیر جگدیش ریڈی ‘ رکن پارلیمنٹ ( راجیہ سبھا ) لنگیا یادو اور دوسروں کو اس وقت تلخ تجربہ کا سامنا کرنا پڑا جب سرکاری دعوت افطار میںمقامی نوجوانوں نے 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کے مطالبہ کے حق میں نعرہ بازی کی اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ تفصیلات کے بموجب اسٹار فنکشن ہال نلگنڈہ ٹاؤن میں آج سرکاری دعوت افطار منعقد تھی ۔ ریاستی وزیر برقی جگدیش ریڈی ‘ رکن راجیہ سبھا لنگیا یادو ‘ صدر نشین فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن جی نریندر ریڈی ‘ ضلع کلکٹر گورو اپل اور سپرنٹنڈنٹ پولیس رنگناتھ بھی شریک تھے ۔ جس وقت جگدیش ریڈی تقریر کر رہے تھے اسی وقت صدر اتحاد فاونڈیشن نلگنڈہ محمد رضی الدین اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک بیانر تھامے اندر گلے آئے ۔ اس بیانر پر 12 فیصد تحفظات مسلمانوں کو فراہم کرنے کا مطالبہ درج تھا ۔ وہ سیدھے اسٹیج کی سمت بڑھ رہے تھے اور تحفظات کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔ اس وقت وزیر موصوف نے اپنی تقریر روک دی ۔ ان نوجوانوں نے کہا کہ حکومت نے 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ اب جبکہ حکومت مختلف سرکاری محکموں میں تقررات کر رہی ہے اسے چاہئے کہ وہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرے اسی وقت مسلمانوں سے انصاف ہوسکتا ہے ۔ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے انہیں روک لیا اور ہال سے باہر لے گئے ۔ جگدیش ریڈی نے بعد ازاں اپنی تقریر میں کہا کہ یقینی طور پر اپنے مطالبات کی تائید میں نمائندگی کرنا سب کا حق ہے اور آج مسلم تحفظات کیلئے بھی جو نمائندگی کی گئی ہے وہ اچھی بات ہے لیکن حکومت بھی اس معاملہ میں خاموش نہیں ہے بلکہ وہ انتہائی سنجیدگی سے اس سلسلہ میں کوشش کر رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT