سرکاری دواخانوں میں ایمبولنس گاڑیوں کی قلت

قدیم ایمبولنس ناقابل استعمال، مریضوں کو آمد و رفت میں مشکلات

حیدرآباد 11 فروری (سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں میں ایمبولنس نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مریض کے علاج کے لئے خانگی ایمبولنس گاڑیوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ دواخانہ عثمانیہ میں برائے نام قدیم 6 ایمبولنس گاڑیاں ہیں جو خراب حالت میں ہیں اور یہاں صرف دو ایمبولنس گاڑیاں ہی زیراستعمال ہیں۔ دواخانہ میں ایمبولنس گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو وہیل چیر پر منتقل کیا جارہا ہے۔ 1985 ء میں متحدہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر این ٹی راما راؤ نے سنجیونی شکٹم نامی اسکیم کے تحت دواخانہ عثمانیہ کو دو ایمبولنس گاڑیاں منظور کی تھی۔ 1994 ء میں جاپان کے تعاون سے ایک ایمبولنس اور 2007 ء میں حکومت نے ہر ایک دواخانہ کو دو ایمبولنس گاڑیاں منظور کی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک بھی کوئی نئی گاڑی دواخانہ عثمانیہ کے لئے نہیں خریدی گئی ہیں۔ چیسٹ دواخانہ میں چار ایمبولنس ہیں جن میں سے دو ایمبولنس 15 برس قدیم ہیں۔ ای این ٹی میں بھی ایمبولنس گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے مریض خود آٹوز یا بسوں کے ذریعہ ان دواخانوں کو منتقل ہورہے ہیں۔ دواخانہ نیلوفر میں تین قدیم ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں تاہم مریضوں کو خانگی گاڑیاں یا 108 گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑرہا ہے اور دواخانہ کا عملہ بھی مریضوں کو ایمبولنس گاڑیوں کا انتظام نہیں کرتا ہے۔ پیٹلہ برج زچگی دواخانہ میں صرف ایک ایمبولنس کے علاوہ ایک پرانی جپسی ہے جو مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے استعمال نہیں کی جارہی ہے اور ایک ہی ایمبولنس ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات درپیش ہیں۔ سلطان بازار زچگی خانہ میں تین ایمبولنس میں سے دو ناقابل استعمال ہیں۔ بعض دواخانوں میں ایمبولنس ہیں تو ڈرائیورس نہیں ہیں اور ان ایمبولنس گاڑیوں کو چلانے کیلئے بہت کم ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے اور ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے ان گاڑیوں کو استعمال بھی نہیں کیا جاتا۔ سرکاری دواخانوں میں برائے نام ایمبولنس گاڑیاں ہوتی ہیں مگر مریض ان گاڑیوں سے استفادہ نہیں کرسکتے کیوں کہ اتنے پرانے اور سیٹ پھٹے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کا استعمال مشکل ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT