Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری دواخانوں میں زچگیوں پر کے سی آر کٹ کی فراہمی میں بدعنوانیاں

سرکاری دواخانوں میں زچگیوں پر کے سی آر کٹ کی فراہمی میں بدعنوانیاں

معمول کی وصولی ، کٹ کا سامان غائب ، مریض حکومت کی اسکیم سے محروم
حیدرآباد۔15فروری(سیا ست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے سرکاری زچگی خانوں میں زچگی کی حوصلہ افزائی کیلئے ’ کے سی آر کٹ‘ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہاہے اور ریاست میں موجود سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے کے علاوہ خواتین کو سرکاری دواخانو ںمیں زچگی کی سمت متوجہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس شہر حیدرآباد کے سرکاری زچگی خانو ںمیں رشوت کے چلن کے سبب آج بھی خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی کے سبب عوام میں بدظنی پیدا ہونے لگی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں خواتین کو سرکاری دواخانو ںمیں زچگی کروانے کی سمت راغب کرنے کیلئے حکومت نے ’کے سی آر کٹ‘ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن زچگی خانہ کے مریضوں میں یہ شکایت عام ہوتی جا رہی ہے کہ انہیں ’کے سی آر کٹ‘ کے حصول کیلئے معمول ادا کرنا پڑ رہاہے اور کے سی آر کٹ میں موجود اشیاء بھی غائب کئے جانے لگے ہیں۔شہر حیدرآباد میں موجود دو سرکردہ سرکاری زچگی خانوں کے عملہ کے رویہ سے نالاں مریضوں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی اسکیم کو جاری کرنے میں دواخانہ کا عملہ کوتاہی کا مظاہرہ کر رہاہے اور ان کے ہاتھ میں جو اشیاء موجود ہیں انہیں غائب کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جو دستیاب ہے وہ دیا جا رہاہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کو بھی اس سلسلہ میں شکایات موصول ہونے کی اطلاع ہے لیکن عملہ کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی پر محکمہ کے عہدیدار اب تک جائزہ لینے میں ناکام ہیں ۔ حکومت کی جانب سے زچہ اور بچہ کیلئے فراہم کی جانے والی اس اسکیم سے استفادہ کیلئے شہر کے دو سرکردہ زچگی خانوں میں 3تا5ہزار روپئے اقساط میں وصول کئے جا رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ ان کی جانب سے ادا کی جانے والی اس رقم کے عوض حکومت بطور سبسیڈی یہ اشیاء فراہم کر رہی ہے ۔ دواخانہ کے ذمہ داروں سے بات چیت کرنے پر اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ اس طرح کی حرکات میں بیشتر عارضی ملازمین ملوث ہیں جنہیں اپنی ملازمت کا خوف نہیں ہے اور اگر انہیں معطل کربھی دیا جائے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔ دونوں ہی زچگی خانو ں میں خدمات انجام دینے والے سرکردہ سینیئر ڈاکٹرس نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے یہ شکایتیں عام ہوتی جا رہی ہیں اور ان شکایتوں کے ازالہ کے لئے دواخانہ کی سطح پر ملازمین کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT