Tuesday , December 18 2018

سرکاری زچگی خانوں میں ایمبولنس گاڑیوں کی کمی

مریضوں کو منتقل کرنے میں مشکلات ، پیٹلہ برج دواخانہ میں صرف ایک ایمبولنس
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : شہر میں چار بڑے دواخانوں کے علاوہ 9 پرائمری ڈیلیوری سنٹرس میں زچگیاں انجام دی جاتی ہیں ۔ نیلوفر ، پیٹلہ برج اور سلطان بازار کے سرکاری دواخانوں میں روزانہ 70-50 زچگیاں ہوتی ہیں تو روزانہ 20-10 خواتین کو ڈسچارج بھی کیا جاتا ہے مگر ان خواتین کو ان کے گھروں تک پہونچانے کی ذمہ داری کوئی بھی دواخانہ نہیں نبھا رہا ہے اور ان دواخانوں میں موجود دو چار ایمبولنس گاڑیوں کو ایک دواخانے سے دوسرے دواخانہ کو مریضوں کو منتقل کرنے کے لیے ہی زیادہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سرکاری زچگی دواخانوں میں صرف زچگیاں ہی کی جاتی ہیں اگر کسی علاج کی ضرورت پڑ جائے تو نیلوفر ، عثمانیہ یا گاندھی دواخانوں کو روانہ کیا جاتا ہے خاص کر زچگی کے وقت زچہ بچہ کو چند مسائل پیدا ہوتے ہیں مثلا زچہ کو فٹس ( مرگی ) ، خون کی کمی ، پھیپھڑوں میں پانی جمع ہوجانا وغیرہ تو بعض نومولود بچوں کی قبل از وقت پیدائش سے وزن میں کمی کے علاوہ دیگر کئی اقسام کے امراض لاحق ہوتے ہیں ان حالات میں علاج کے لیے ماہر ڈاکٹرس اور تمام سہولیات سے لیس دواخانوں کو منتقل کرنے کے لیے ایمبولنس گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ واضح ہو کہ پیٹلہ برج زچگی خانہ میں صرف دو گاڑیاں ہی ہیں جن میں ایک ایمبولنس تو دوسری جیپ ہے اور اس دواخانے میں نومولود کو کوئی مرض لاحق ہو تو علاج کے لیے نیلوفر منتقل کرنا پڑتا ہے مگر ایمبولنس نہ ہونے کی وجہ سے بروقت منتقل نہیں کرپاتے ہیں اور سلطان بازار زچگی خانے کی بھی یہی حالت ہے اور اگر دواخانہ نیلوفر میں حاملہ خواتین یا زچہ کو کسی علاج کی ضرورت پیش آئے تو انہیں عثمانیہ یا گاندھی دواخانوں کو منتقل کیا جاتا ہے مگر یہاں بھی ایمبولنس گاڑیاں ضرورت کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے خانگی گاڑیاں ہی حاصل کرنا پڑتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT