Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / سرکاری عہدیداروں کی مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے لینڈ گرابرس کوشاں

سرکاری عہدیداروں کی مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے لینڈ گرابرس کوشاں

میر عالم تالاب کی پلاٹنگ ، حسن نگر کی سمت کی اراضی فروخت ، سماجی جہدکار اور عوام ناجائز قبضے کو روکنے متحرک

میر عالم تالاب کی پلاٹنگ ، حسن نگر کی سمت کی اراضی فروخت ، سماجی جہدکار اور عوام ناجائز قبضے کو روکنے متحرک
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل : سائبر آباد پولیس کمشنر مسٹر سی وی آنند نے لینڈ گرابروں کو سرکاری و خانگی اراضیات پر ناجائز قبضوں سے روکنے کے لیے کچھ عرصہ قبل مثالی اقدامات کیا تھا جن میں لینڈ گرابروں کی روڈی شیٹس کھولنا بھی شامل تھا ۔ پولیس کے ان سخت اقدامات کے باوجود حسن نگر میں واقع 207 سالہ قدیم میر عالم تالاب پر لینڈ گرابرس بری نظریں جمائے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں اب تک کئی ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کئے جاچکے ہیں ۔ اب پھر ایک بار اس تاریخی میر عالم تالاب میں مٹی بھر کر اس اراضی کی پلاٹنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس ضمن میں مقامی افراد ، جھیلوں تالابوں اور کنٹوں کے تحفظ میں مصروف غیر سرکاری تنظیم سول SOUL ( Save our urban lakes ) کے عہدیداروں نے دفتر سیاست سے رجوع ہوکر بتایا کہ میر عالم تالاب کے ایک حصہ میں مٹی بھر کر ایک سڑک کی مانند راستہ نکالا گیا ہے اور بڑے بڑے پلاٹس بناتے ہوئے باونڈری والس تعمیر کی جارہی ہیں ۔ SOUL کے کنوینرس اور سماجی جہدکار ایم کیو مسعود ، لبنیٰ فاطمہ اور جسوین جیراک کے مطابق ان لوگوں نے کلکٹر رنگاریڈی محکمہ واٹر ورکس ، میٹرو پالیٹن کمشنر ، کنوینر لیک پروٹیکشن کمیٹی کے علاوہ ای ای ایچ ایم ڈی اے کو میر عالم تالاب پر کی جارہی ناجائز پلاٹنگ کے بارے میں واقف کروادیا ہے جب کہ سائبر آباد پولیس کمشنر سے بھی لینڈ گرابرس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ان سماجی جہدکاروں کا کہنا ہے کہ زائد از 600 ایکڑ اراضی پر محیط میر عالم تالاب پر محکمہ آبرسانی کے انتہائی قدیم ایسے بورڈس بھی آویزاں ہیں جس پر تالاب کی اراضی پر داخل ہونے اور اس پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ گرابرس فی الوقت 4 ایکڑ اراضی کی پلاٹنگ کررہے ہیں اور وہاں5 تا 10 ہزار روپئے فی گز اراضی فروخت کی جارہی ہے ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس زمین کی ناجائز معاملتوں کے عوض لینڈ گرابرس کو کم از کم دس کروڑ روپئے کا فائدہ ہوگا ۔ کمیونسٹ جماعتوں کے قائدین اور سماجی جہد کاروں کا کہنا ہے کہ لوگ میر عالم تالاب کی اراضی خریدنے سے گریز کریں کیوں کہ یہ سرکاری اراضی ہے اور اس کی خریدی پانی میں پیسہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ ایسے میں کوئی عقل مند اپنی کمائی پانی میں نہیں ڈال سکتا ۔ واضح رہے گرما تالاب سوکھ جاتا ہے لیکن موسم بارش میں پانی اطراف کی آبادیوں میں تک داخل ہوجاتا ہے ۔ ویسے بھی 5 فروری کو کمشنر بلدیہ سومیش کمار نے میر عالم کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ 4 کروڑ روپئے کے مصارف سے میر عالم تالاب کو لمبنی پارک اور این ٹی آر گارڈن کے طرز پر تفریحی مقام کے لیے ترقی دی جائے گی ۔ بہرحال سماجی جہد کاروں نے لینڈ گرابرس کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ حسن نگر عیدگاہ کے قریب میر عالم تالاب کے حصہ پر کسی بھی قیمت پر پلاٹنگ ہونے نہیں دیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT