Thursday , January 17 2019

سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر جلد تقررات: کے سی آر

TRS chief K Chandrasekhar Rao addressing Party Legislator meet at TG bhavan in Hyderabad on Wednesday. Pic:Style photo service.

کانگریس اور بی جے پی کے متبادل کی تیاری، مسلم تحفظات کیلئے سنجیدہ اقدامات، چیف منسٹر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 12۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں مخلوعہ جائیدادوں پر جلد تقررات کا اعلان کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض جماعتیں بیروزگار نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہوئے سیاست کر رہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے سوال کیا کہ تلگو دیشم اور کانگریس نے 60 برس تک حکومت کی۔ انہوں نے کتنی جائیدادوں پر تقررات کئے؟ اگر ہر سال ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کئے جاتے تو اب تک 60 لاکھ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں ٹی آر ایس سے سرکاری محکمہ جات میں تقررات پر سوال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 برسوں میں 5 لاکھ نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم نہیں کیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ نوجوانوں کو الجھن میں مبتلا کرتے ہوئے پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں تین لاکھ ملازمتیں ہیں جبکہ خانگی شعبہ میں 30 لاکھ ملازمتوں کی گنجائش ہے۔ نوجوانوں کو حقیقت سے واقف کرائے بغیر کب تک گمراہ کیا جائے گا۔ ان جماعتوں کا مقصد تقررات کے نام پر دھرنا منظم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ تمام جائیدادوں پر جلد تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے تقررات کے عمل میں کسی قدر تاخیر کی جس سے حکومت پر منفی اثر مرتب ہوا ہے۔ لہذا حکومت نے بعض اداروں کے تقررات کا عمل کمیشن سے واپس لیتے ہوئے متعلقہ محکمہ جات کے ذمہ کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے ذریعہ ڈھائی لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جات میں تقررات سے زیادہ بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ قومی سیاست میں حصہ لینے کے عزائم کا اعادہ کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ریاستوں کی صورتحال ابتر ہے اور کئی اہم امور کو مرکز میں اپنے پاس مرکوز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ، دیہی ترقی ، شہری ترقی ، صحت اور تعلیم جیسے مسائل مرکز کے پاس نہیں ہونے چاہئے بلکہ یہ شعبہ جات ریاستوں کے حوالہ کردیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ معمولی اسکول کی ذمہ داری بھی مرکز کے تحت ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں اور دونوں ریاستوں کے اختیارات کو سلب کر رہے ہیں۔ نریندر مودی نے مرکز اور ریاست کے درمیان باہمی تعاون کے ساتھ وفاقی نظام کا نعرہ لگایا تھا لیکن ملک میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کے سی آر نے ملک کو نئے معاشی ماڈل کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی منشور پر صد فیصد عمل کرنے والی پارٹی ٹی آر ایس ہے۔ ملک کی کوئی پارٹی اس طرح کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیمات تاریخی نوعیت کی ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں وہ محض نعرہ بازی پر یقین نہیں رکھتے۔ حکومت نے تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکول قائم کئے اور آئندہ 10 برسوں میں اقلیتوں میں تعلیمی انقلاب برپا ہوگا۔ اقامتی اسکولوں سے ایسے قابل اقلیتی طلبہ تیار ہورہے ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک سے مسابقت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کی کارکردگی کے سبب عوام نے ٹی آر ایس کو دوبارہ اقتدار دیا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ بہت جلد پنچایت راج انتخابات کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ نو منتخب ارکان اسمبلی کو پنچایت انتخابات کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کے سی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ ملک میں کسانوں کی تنظیموں ، رضاکارانہ تنظیموں اور دانشوروں سے ملاقات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر بی جے پی اور کانگریس کا متبادل ضرور تیار ہوگا اور عوام کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل فرنٹ کی جانب سے ملک بھر میں رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری کا اعلان کیا جائے گا۔ کے سی آر نے مرکزی بجٹ میں محض 4000 کروڑ روپئے اقلیتی بہبود کیلئے مختص کرنے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ ملک بھر کیلئے یہ بجٹ انتہائی ناکافی ہے۔ حکومتوں کو دیانتداری کے ساتھ بجٹ مختص کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کا کام مرحلہ وار انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ مسلم تحفظات پر عمل آوری میں مرکزی حکومت اہم رکاوٹ ہے جو 50 فیصد کی حد مقرر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 85 فیصد آبادی کمزور طبقات پر مشتمل ہے ، لہذا صرف 50 فیصد پر کس طرح عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کے فیصلے کو حق بجانب قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں کانگریس اور بی جے پی کے صفایہ تک یہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے حیدرآباد ایک محفوظ شہر ہے۔ اسے ملک کا ماڈل شہر بھی کہا جاسکتا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں کو بھی تمام طبقات کیلئے محفوظ بنایا جائے گا ۔

کے سی آر کی دوسری میعاد کیلئے آج حلف برداری
چیف منسٹر کے ساتھ ایک یا دو وزراء بھی حلف لیں گے، آئندہ ہفتہ مکمل کابینہ

حیدرآباد ۔ 12۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کل دوپہر 1:25 بجے چیف منسٹر تلنگانہ کی حیثیت سے دوسری میعاد کیلئے حلف لیں گے ۔ پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد لیجسلیچر پارٹی نے انہیں متفقہ طور پر اپنا قائد منتخب کیا ہے۔ ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس آج تلنگانہ بھون میں منعقد ہوا جس میں کے سی آر کو متفقہ طور پر قائد منتخب کیا گیا ۔ لیجسلیچر پارٹی کی قرارداد سے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو واقف کرایا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر قائدین نے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے لیجسلیچر پارٹی کی قرارداد حوالے کی اور کل دوپہر حلف برداری کے فیصلہ سے واقف کرایا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے منتخب ارکان اسمبلی کی تفصیلات کے ساتھ گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی باقی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گزٹ نوٹیفکیشن آج شام تک جاری کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل حلف لینا چاہتے ہیں کیونکہ کل کا دن اچھا مہورت ہے۔ گزٹ کی اجرائی کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکے گا ۔ پہلے مرحلہ میں میں ایک ساتھی کے ساتھ حلف لوں گا پھر چند دن بعد کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابات میں بعض وزراء کی شکست اور نئی کابینہ میں شمولیت کے لئے مختلف گوشوں سے ارکان اسمبلی کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے کابینہ کی تشکیل کو کچھ دن تک کیلئے ٹالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں تمام طبقات کو مناسب نمائندگی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی تعداد کے اعتبار سے صرف 18 وزراء کی گنجائش ہے جو کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے مزید وزراء کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ کے سی آر نے چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنا استعفیٰ گورنر کو اپنے سکریٹری کے ذریعہ روانہ کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر پہلے مرحلہ میں درج فہرست اقوام و قبائل یا پھر کسی خاتون یا اقلیتی طبقہ کے نمائندہ کے ساتھ چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف لیں گے۔ نئی کابینہ میں خاتون وزیر کی شمولیت کو یقینی کہا جارہا ہے کیونکہ گزشتہ کابینہ میں ایک بھی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا تھا ۔راج بھون میں حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT