Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری محکمہ جات کی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی و سرد مہری

سرکاری محکمہ جات کی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی و سرد مہری

مسلمانوں کو تحفظات کیلئے سدھیر کمیشن آف انکوائری کو حصول معلومات میں دشواریاں ، سرکاری محکموں کا عدم تعاون
حیدرآباد۔/23جون، ( سیاست نیوز) سرکاری محکمہ جات کی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی اور سرد مہری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری کو محکمہ جات سے درکار معلومات کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سرکاری محکمہ جات کے عدم تعاون کے رویہ سے کمیشن حیرت زدہ ہے اور وہ اس سلسلہ میں اپنے اختیارات کے استعمال پر غور کررہا ہے۔ واضح رہے کہ سدھیر کمیشن نے تمام سرکاری محکمہ جات سے ملازمتوں میں مسلم نمائندگی کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں لیکن ابھی تک صرف 30تا 40فیصد محکمہ جات نے جوابات داخل کئے لیکن ان کی تفصیلات بھی نامکمل اور ادھوری پائی گئی۔ کمیشن نے محکمہ جات میں ہر سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کی تفصیلات ضلع واری سطح کی بنیاد پر طلب کی ہیں لیکن ایک بھی محکمہ نے اطمینان بخش اور درکار تفصیلات اور اعداد و شمار داخل نہیں کئے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر اس کمیشن کی قیادت کررہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد کام کی تکمیل کرتے ہوئے ستمبر سے قبل حکومت کو سفارشات پیش کردی جائیں۔ کمیشن کو مزید 60 فیصد سرکاری محکمہ جات سے کوئی جواب وصول نہیں ہوا جبکہ انہیں بارہا توجہ دلائی جاچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اداروں نے مجموعی طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصد روانہ کردیا۔ حیدرآباد ہائی کورٹ کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ 11.5فیصد مسلم نمائندگی کا جواب داخل کیا گیا جس پر کمیشن نے ججس سے لیکر نچلی سطح تک ہر شعبہ میں مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات پیش کرنے کی خواہش کی ہے۔ اگر سرکاری محکمہ جات کا رویہ اسی طرح برقرار رہا تو سدھیر کمیشن کو رپورٹ کی پیشکشی میں دشواری ہوگی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تمام سرکاری محکمہ جات کو پابند کرے اور تفصیلات کی پیشکشی کیلئے مہلت مقرر کردی جائے۔ حکومت نے کمیشن کی میعاد میں ابھی تک دو مرتبہ توسیع کردی ہے اور جی سدھیر اور ان کے ساتھی ارکان مزید کسی توسیع کے بغیر ہی کام کی تکمیل کے خواہاں ہیں بشرطیکہ سرکاری محکمہ جات کمیشن سے تعاون کریں۔ بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک نامور ادارہ  سے سروے کا کام شروع کیا ہے۔ یہ سروے اختتامی مرحلہ میں ہے اس کے تحت شہر اور اضلاع میں 10 ہزار سے خاندانوں کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ہر خاندان کی صورتحال کے بارے میں جائزہ لینے کیلئے 20 صفحات پر مشتمل سوالنامہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کی صورتحال کی پسماندگی کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آسکے۔ سیمپل سروے رپورٹ کمیشن کو ملنے کے بعد اسے مختلف زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا اور سفارشات کے ساتھ اسے حکومت کو پیش کیا جائے گا۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ اگر سرکاری محکمہ جات کا رویہ اسی طرح برقرار رہا تو کمیشن اپنے اختیارات کے استعمال پر غور کرسکتا ہے۔ گذشتہ دنوں کمیشن کے ارکان عامر اللہ خاں، محمد عبدالشعبان اور ایم اے باری نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے کمیشن کے پاس موجود مواد اور سرکاری محکمہ جات کی روانہ کردہ تفصیلات کا جائزہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT