Sunday , January 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / سرکاری مدارس کی کارکردگی پر اساتذہ کی تساہل پسندی اثرانداز

سرکاری مدارس کی کارکردگی پر اساتذہ کی تساہل پسندی اثرانداز

مہادیوپور۔8اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اردو زبان دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے ‘ آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوستان میں ذریعہ تعلیم اردو رہا ہے ‘ کئی ایک دانشور اردو فارغ تحصیل ہوکر دنیا کے ہر کونے میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے ۔ عثمانیہ کے کئی سپوت اردو سے واقف تھے لیکن آج اردو زبان سے نفرت کررہے ہیں ۔ اردو بولنے والوں

مہادیوپور۔8اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اردو زبان دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی زبان ہے ‘ آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوستان میں ذریعہ تعلیم اردو رہا ہے ‘ کئی ایک دانشور اردو فارغ تحصیل ہوکر دنیا کے ہر کونے میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے ۔ عثمانیہ کے کئی سپوت اردو سے واقف تھے لیکن آج اردو زبان سے نفرت کررہے ہیں ۔ اردو بولنے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے اس کی اصل وجہ اردو داں حضرات اپنے بچوں کو انگریزی مدارس میں پڑھا رہے ہیں ۔ اردو مدارس کا یہ حال ہے کہ یہاں صرف غریب ماں باپ کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ‘ ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے آگے آئیں ۔ جب اردو مدارس کے اساتذہ کا ذکر آتا ہے تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ اردو زبان کی ترقی کے بجائے اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ نوکری مل گئی ہے مداس اور بچوں کی کیا فکر ہے ۔ اسی وجہ سے مدارس کی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے ۔ اردو اساتذہ ٹریننگ سے فارغ ہوکر نوکری کی تلاش میں ہوتے ہیں تو اور ڈی ایس سی لکھ کر ملازمت حاصل کرتے ہیں تویہ ان کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ ضلع کے کسی بھی مدارس میں ڈیوٹی انجام دیں گے ۔ چنددن گدرنے کے بعد اساتذہ کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ مدرسہ گھر سے قریب ہو اور اپنی ذاتی مصروفیتوں کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی ڈیوٹی سے لاپرواہی سے غفلت کرنا شروع کرتے ہیں‘ آخر میںیہ نوبت آتی ہے کہ بچے مدرسہ سے دور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی پسماندگی مدارس کی تعداد میں کمی اور آخر میں یہ حالت ہوتی ہے کہ مدرسہ برخاست ہونے کی نوبت آجاتی ہے۔ حال ہی میں ضلع کریم نگر کے جگتیال منڈل اور ابراہیم پٹنم سے مزید دو مدارس برخواست ہوگئے ہیں ۔ اساتذہ اپنی ڈیوٹی سے لاپرواہی اور پرائمری مدارس میں چھوٹے بچوں کو پڑھائیں گے جس سے والدین ادو مدرسوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بجائے انگریزی مدارس کا رُخ کررہے ہیں ۔ اساتذہ یہ سوچیںکہ بیروزگار ٹرینڈ اساتذہ کا آئندہ کیا حال ہوگا ۔ اگر مدارس نہ ہوں تو یہ کہاں نوکری حاصل کریں گے ۔ اساتذہ اپنی پوری ذمہ داری سے ڈیوٹی انجام دیں گے تو اردو مدارس قائم رہیں گے اور ٹرینڈ اساتذہ کو روزگار ملے گا ۔ تمام اساتذہ اردو مدارس کے فروغ کیلئے جدوجہد کریں ۔ ستم ظریفی یہ ہیکہ محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور اردو سے تعصبانہ رویہ کی وجہ سے اردو مدارس میں تلگو اساتذہ کا تقرر ہورہا ہے ۔ اس سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں مشکل پیش آرہی ہے اور طلبہ کا نقصان ہورہا ہے ۔ ضلع کے اردو مدارس میں جگتیال قاضی پورہ ہائیاسکول ‘ کریم نگرمکرم پورہ گرلز ہائی اسکول رام گنڈم ہائی اسکول اردو میڈیم اور مہادیوپور ہائی اسکول اردو میڈیم میں غیر مسلم ہیڈ ماسٹرس ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ‘ اسی وجہ سے اساتذہ اور اولیائے میں غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے ‘ یہیں نہیں بلکہ آج اردو مدارس میں بنیادی سہولتیں ‘ پینے کا پانی ‘ بیت الخلاؤں اور فرنیچر کی عدم موجودگی سے دور ہے لیکن ہر سال اسکولوں کیلئے کروڑوں کا بجٹ جاری ہوتا ہے ۔ اردو مدارس کی طرف توجہ نہیں دیتے جو کچھ بھی گرانٹس جاری ہوتا ہے وہ گرانس کو ہیڈ ماسٹرس کی لاپرواہی کرنے پر استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا اردو مدارس کے مسائل کی موجودگی پر دیکھنا چاہیئے کہ اردو مدارس کی ترقی کیسے ہوپائے گی۔

TOPPOPULARRECENT