Saturday , January 20 2018
Home / اداریہ / سرکاری ملازمتیں اور اقلیتیں

سرکاری ملازمتیں اور اقلیتیں

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات سرکاری ملازمتیں اور اقلیتیں

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
سرکاری ملازمتیں اور اقلیتیں
مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں اقلیتوں کے تناسب کے تعلق سے اب خود حکومت نے بھی اعتراف کرلیا ہے کہ ان کا تناسب آبادی کے اعتبار سے بہت کم ہے ۔ نہ صرف مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں بلکہ تقریبا تمام سرکاری ملازمتوں کا یہی حال ہے اور تمام شعبہ جات میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے اور بعض محکمہ جات تو ایسے ہیں جہاں یہ تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے ۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے خود پارلیمنٹ میں اعتراف کیا کہ مرکزی ملازمتوںمیں اقلیتوں کا تناسب ان کی آبادی کے لحاظ سے کم ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے مسلسل اس جانب حکومتوں کی بارہا توجہ مبذول کروائی گئی تھی کہ اقلیتیں سرکاری ملازمتوں میں اپنے دیگر ابنائے وطن سے بہت پیچھے ہوتی جا رہی ہیں۔ اقلیتوں میں بھی مسلمان سب سے زیادہ کم تعداد میں سرکاری ملازمتیں حاصل کرپاتے ہیں۔ حکومتوں کو بارہا توجہ دلانے کے باوجود صورتحال جوں کی توں برقرار رہی اور اس جانب توجہ کرتے ہوئے اقلیتوں میں مسابقتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ ہر حکومت ویسے تو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے تعلق سے بلند بانگ دعوے کرتی ہے اور خود مسلمانوںکے مفادات کی چمپئن ہونے کا ادعا کرتی ہے لیکن عملی میدان میں ہر حکومت ناکام ہی رہی ہے اور یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا ہے ۔ بارہا یہ کہا جاتا ہے کہ اقلیتوں میں مسابقتی صلاحیتوں کا فقدان ہے اور وہ تعلیمی میدان میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ تعلیمی وسماجی پسماندگی کی وجہ سے دیگر طبقات کے افراد کے شانہ بہ شانہ ترقی نہیں کرپاتے اور انہیں سرکاری ملازمتوں میں بھی کوئی مناسب نمائندگی نہیں مل پاتی ۔ یہ عذر اپنی جگہ ہوسکتا ہے کہ درست بھی ہو لیکن حکومتوں کی سطح پر اس صورتحال کو ختم کرنے کیلئے بھی کچھ نہیں کیا گیا ۔ یہ بھی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے خود حکومتیں بھی انکار نہیں کرسکتیں۔ حکومتیں اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں ناکام رہی ہیں۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر حکومتیں اس مسئلہ پر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کرتیں تو آج جو صوررتحال ہے وہ اتنی سنگین ہرگز نہ ہوتی ۔
یہ درست ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب خود مسلمانوں میں ہر سطح پر پسماندگی کے ساتھ ساتھ احساس کمتری بھی بہت زیادہ ہوگیا تھا ۔ تاہم بدلتے وقت کے تقاضوں کو خود کو ہم آہنگ کرنے میں اب مسلمان اور دیگر اقلیتیں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ اقلیتوں میں بھی تعلیمی شعور بیدار ہوا ہے ۔ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اور ادارے اپنے طور پر مسلمانوں میں شعور بیداری کیلئے جو مہم چلا رہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور ان کی وجہ سے مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال میں قدرے بہتری پیدا ہوئی ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب تقریبا ہر شعبہ میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں بھی اپنے نوجوانوں کا وجود دیکھ رہی ہیں۔ خود مسلم سماج اور اقلیتوں میں اس تعلق سے احساس پیدا ہو رہا ہے کہ انہیں اپنے وجود کو منوانے کیلئے اپنے طور پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں کی پالیسیوں اور پروگراموں پر انحصار کرتے ہوئے وہ اب جہاں پہونچ گئے ہیں اس سے بھی پیچھے ہوجائیں گے ۔ اگر انہیں ترقی کرنا ہے اور دیگر ابنائے وطن کے برابر مواقع حاصل کرنے ہیں تو پھر اپنے طور پر جدوجہد کرنی ہوگی ۔ تاہم حکومتوں کا جہاں تک سوال ہے انہیں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی سے پہلوتہی سے گریز کرنا چاہئے ۔ اس مسئلہ پر اب تک حکومتوں نے جو غفلت برتی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہئے اور حکومتوں کو اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو ختم کرنے کیلئے باضابطہ مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔
اقلیتوں کو ترقی کی رفتار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جہاں غیر سرکاری تنظیمیں اورکچھ ادارے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کیلئے بھی حکومتوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ سماج کے مختلف طبقات میں جو فرق حائل ہوتا جا رہا ہے اس کو ختم کیا جاسکے اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جاسکے ۔ حکومت کے پاس اقلیتوں اور مسلمانوں کی پسماندگی کی مکمل تفصیلات اور ریکارڈز موجود ہیں ۔ حکومت کے اپنے اداروں کے اعداد و شمار موجود ہیں جن کی روشنی میں حکومتوں کو اپنے طور پر ایسی پالیسیاں اور پروگرامس مرتب کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعہ اقلیتوں کو سماج کے دیگر طبقات کے شانہ بہ شانہ لانے میں مدد مل سکے اور انہیں بھی نہ صرف مرکزی بلکہ ریاستی ملازمتوں میں بھی آبادی کے اعتبار سے اپنی نمائندگی کو یقینی بنانے کا موقع مل سکے ۔ سماجی سطح پر اس فرق کو خت مکرنا حکومت کا فرض اور اس کی ذمہ داری بھی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT